بلاگتراجم
ٹرینڈنگ

نہرو کا خط اندرا پریا درشن کے نام /عقیلہ منصور جدون



سالگرہ پر خط

براۓ اندرا پریا درشن
تیرھویں سالگرہ پر
سنٹرل جیل نیامی
۲۶ اکتوبر ۱۹۳۰
اپنی سالگرہ پر تم تحفے اور نیک خواہشات وصول کرنے کی عادی ہو ۔ نیک خواہشات تو اب بھی تمھیں بھر پور ملیں گی ۔لیکن نیامی جیل سے میں تمہیں کیا تحفہ دے سکتا ہوں ۔؟ میرا تحفہ کوئی ٹھوس مادی تحفہ تو ہو نہیں سکتا ،ہاں ہوائی زہنی اور روحانی ہو سکتا ہے ۔

جیسے کہ کسی اچھی پری کا عطا کردہ تحفہ ،کوئی ایسی چیز جسے جیل کی اونچی دیواریں بھی نہ روک پائیں ۔
سویٹ ہارٹ ، تم جانتی ہو میں وعظ و نصیحت پسند نہیں کرتا ۔جب کبھی ایسا کرنا چاہوں تو مجھے اس “عقلمند شخص “کی کہانی یاد آ جاتی ہے جو میں نے ایک دفعہ پڑھی تھی ۔کیا پتہ ایک دن تم خود یہ کتاب پڑھ لو جس میں یہ کہانی بیان ہوئی ہے ۔
تیرہ ہزار سال قبل ملک چین سے ایک سیاح ہندوستان آیا ۔وہ علم و دانش کی تلاش میں تھا ۔اس کا نام ہیوان سانگ / Hiuen Tsang تھا ۔اسکی علم کی تڑپ اتنی شدید تھی کہ وہ شمال کے صحرا اور پہاڑ عبور کرتا ،ہر قسم کی مشکلات و خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کرتا انڈیا پہنچا ۔اس طرح اس نے سال ہا سال انڈیا میں خود سیکھنے اور دوسروں کو سکھانے میں گزار دئے ۔ نالنڈا /Nalanda کی عظیم یونیورسٹی میں رہا ۔جو اس زمانے میں پٹالی پترا نامی شہر کے قریب واقع تھی ۔آج وہ شہر پٹنہ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ہیوان سانگ خود عالم فاضل تھا ۔اسے “بدھا کے قانون کا استاد “ کا لقب دیا گیا تھا ۔


اس نے اس زمانے میں کم و بیش پورے انڈیا کی سیاحت کی ،اور اس عظیم ملک کے لوگوں کو دیکھا اوران کا مطالعہ کیا ۔بعد میں اس نے اپنے اس سفر پر کتاب لکھی ۔اور اسی سفر نامے میں وہ کہانی ہے جو مجھے یاد آئی ہے ۔ یہ کہانی جنوبی ہندوستان کے ایک شخص کے بارے میں ہے وہ “بہار” کے نزدیک بھاگل پور جس کا اس وقت نام کرنا سورنہ(Karsuvarna( تھا میں آیا ۔کہانی میں اس شخص کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ اپنی کمر کے گرد تانبے کی پلیٹیں اور سر کے ساتھ روشن مشعل باندھتا تھا ۔ہاتھ میں چھڑی لئے ہوۓ باوقار چال چلتا ہوا وہ اس عجیب و غریب حلیےمیں گھومتا رہتا ۔اور جب بھی کوئی اس سے اس حلیے کی وجہ پوچھتا تو وہ کہتا ،کہ اس کے پاس اتنی دانائی ہے کہ وہ خوفزدہ ہے کہ اس کے بوجھ سے اس کا پیٹ پھٹ نہ جائے اگر اس نے اس کے گرد تانبے کی پلیٹیں نہ باندھیں ۔اور وہ اپنے ارد گرد لوگوں کی جہالت پر افسردہ رہتا ہے ۔ان کے لئے جو جہل کے اندھیرے میں لپٹے ہیں وہ سر پر روشنی رکھتا ہے ۔



خیر مجھے یقین ہے میں دانائی کے بوجھ سے کبھی نہیں پھٹوں گا ۔اس لئے مجھے تانبے کی پلیٹیں باندھنے کی ضرورت نہیں ۔اور پھر میری دانائی میرے پیٹ میں نہیں ۔یہ جہاں بھی ہے وہاں مزید دانائی کی کافی گنجائش ہے ۔اور گنجائش کم ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ۔اگر میری دانائی اتنی محدود ہو تو کیا میں دانا کہلا سکتا ہوں ؟ ۔ اور دوسروں کو نصیحت کر سکتا ہوں ؟
اس لئے میں یہی سمجھتا ہوں کہ نیکی اور بدی ،درست اور غلط میں تمیز کرنے اور کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا میں فیصلے کے لئے وعظ کی ضرورت نہیں بلکہ مکالمے اور مباحثے کی ضرورت ہے ۔اس سے تھوڑا بہت سچ نکل آتا ہے ۔مجھے تم سے بات چیت کرنا اچھا لگتا ہے ۔ہم نے بہت سی بحثیں کی ہیں ،لیکن دنیا بہت بڑی ہے ۔ اور ہماری دنیا سے پرے بہت دلچسپ ،حیران کن ،اور پراسرار دنیائیں موجود ہیں ۔اس لئے ہم میں سے کسی کو بھی بور ہونے یا بےوقوف گھمنڈی بننے کی ضرورت نہیں ،اس شخص کی طرح جس کی کہانی ہیون سانگ نے ہمیں سنائی ہے ،کہ ہم ہر وہ بات جو سیکھنے کے قابل ہے سیکھ چکے ہیں ،اور مکمل دانائی پا چکے ہیں ۔ایسے لوگ نئی دریافتوں اور نئی باتیں معلوم ہونے سے جو خوشی حاصل ہوتی ہے اس سے محروم رہتے ہیں ۔
اس لئے مجھے وعظ نہیں کرنا ،تو پھر مجھے کیا کرنا ہے ؟ خط گفتگو کی جگہ بمشکل ہی لے سکتا ہے ۔زیادہ سے زیادہ یہ یکطرفہ معاملہ رہتا ہے ۔اس لئے جب کبھی میں کوئی ایسی بات لکھوں جو اچھی نصیحت محسوس ہو ،تو اسے ایسی گولی جسے ہر حال میں نگلنا ہے کے طور پر مت لینا ۔اسے یوں سمجھنا کہ میں نے تمھیں سوچنے کے لئے مواد دیا ہے ،جیسا کہ ہم حقیقتا” گفتگو کر رہے ہوں ۔


تاریخ میں ہم قوموں کی زندگی کے عظیم ادوار ، عظیم مرد و خواتین کے کارنامے پڑھتے ہیں ۔اور کبھی خوابوں میں ہم اپنے آپ کو ان ادوار میں پرانے ہیروز کی طرح بہادری کے کارنامے سرانجام دیتے ہوے دیکھتے ہیں ۔
تمہیں ضرور یاد ہو گا جب تم نے پہلی دفعہ جین ڈی آرک /Jeanne d Arc کی کہانی پڑھی تھی تو تم کتنی سحر زدہ ہو گئی تھی ۔اور اس جیسا بننا تمھارا نصب العین تھا ۔
عام مرد و عورتیں ہیرو نہیں ہوتے ۔وہ اپنی اور اپنے بچوں کی روز مرہ کی روزی روٹی اور باقی گھریلو پریشانیوں کا سوچتے ہیں ،لیکن ایک وقت آتا ہے جب ساری عوام ایک ہی عظیم مقصد پر ایمان لے آتی ہے ۔تب عام مرد عورت ہیرو بن جاتے ہیں تب تاریخ میں وہ وقت ہلچل کا اور عہد ساز وقت ہوتا ہے ۔عظیم راہنما کچھ ایسے ہوتے ہیں جو عوام کو اس طرح متاثر کرتے ہیں کہ ان سے عظیم کارنامے کرواتے ہیں ۔
جب سال ۱۹۱۷ /1917 میں تم پیدا ہوئی تھی،وہ تاریخ کا یاد گار سال تھا ۔جب ایک عظیم راہنما جس کا دل غریبوں کی ہمدردی اور پیار سے لبریز تھا ،نے تاریخ کا ناقابل فراموش باب لکھا ۔اور اس مہینے جس میں تم پیدا ہوئیں “ لینن “نے عظیم انقلاب کا آغاز کیا ۔جس سے روس اور سائبیریا کا چہرہ بدل دیا ۔
اور آج انڈیا میں ایک اور عظیم راہنما جو تمام دُکھی انسانیت سے پیار کرتا ہے ،اور ان کی مدد کے لئے پرجوش ہے نے عوام کو عظیم جدوجہد اور قربانیوں کے لئے تیار کر دیا ہے ،تا کہ وہ پھر آزاد ہو جائیں ۔فاقہ زدہ غربت اور استحصال سے نجات پائیں ۔باپو جی (مہاتما گاندھی ) جیل میں ہیں ،لیکن ان کے پیغام کا جادو لاکھوں ہندوستانیوں کے دلوں کو چرا رہا ہے ۔مرد عورتیں یہاں تک کہ چھوٹے بچے بھی اپنے چھوٹے چھوٹے خولوں سے نکل آۓہیں اور آزادی کے سپاہی بن رہے ہیں ۔انڈیا میں آج ہم تاریخ لکھ رہے ہیں ۔میں اور تم خوش قسمت ہیں کہ ہم اپنی آنکھوں سے یہ سب ہوتا دیکھ رہے ہیں ۔اور اس عظیم کھیل میں کچھ حصہ ہمارا بھی ہے ۔
میں کچھ کہ نہیں سکتا ،ہمارا اس کھیل میں کیا حصہ ہو گا ۔لیکن جو بھی ہو ہمیں یاد رکھنا ہے کہ ہم ایسا کچھ نہیں کریں گے جو ہمارے مقصد کو نقصان پہنچاۓ یا ہماری عوام / قوم کی بے عزتی کا باعث ہو ۔
اگر ہم انڈیا کے سپاہی ہیں ،تو انڈیا کی عزت ہم سے ہے ۔اور یہ مقدس فریضہ ہے ۔اکثر ہم مشکوک رہتے ہیں کہ ہم نے کیا کرنا ہے ۔یہ فیصلہ کرنا کہ کیا درست ہے اور کیا غلط ہے ،آسان نہیں۔جب کبھی تم ایسی کشمکش کا شکار ہو تو تمھیں ایک چھوٹا سا ٹیسٹ بتاتا ہوں ،یہ تمھاری مدد کرے گا ۔کبھی بھی کوئی کام چھپ کر نہ کرنا ۔یا کوئی ایسی بات جسے تمہیں چھپانے کی خواہش ہو ،کیونکہ ایسی خواہش کا مطلب ہے کہ تم خوف زدہ ہو ۔اور خوف بری چیز ہے ۔اور تمھارے قابل نہیں ۔بہادر بننا اور سب ٹھیک ہو جاۓ گا ۔اگر تم بہادر ہو تو تمہیں کوئی خوف نہیں اور تم کوئی ایسا کام نہیں کروگی جس پر تم شرمندہ ہو ۔تم جانتی ہو باپو جی کی قیادت میں ہماری عظیم تحریک آزادی میں چھپنے اور چھپانے کی کوئی گنجائش نہیں ۔ہمیں کچھ نہیں چھپانا ۔ہم جو کر رہے ہیں اس پر خوف زدہ نہیں ہیں ۔ہم سورج کی روشنی میں کام کرتے ہیں اور جو کہتے ہیں اسی طرح اپنی نجی زندگی میں بھی سورج سے دوستی رکھو ۔اور روشنی میں کام کرو ۔چھپ کر کوئی کام نہ کرو ۔پرائیویسی بے شک ہونی چاہیے اور اگر تم ایسے کرو گی میری جان ،تو تم روشنی کے بچے کے طور پر بڑھو گی ،پرسکون ،بے خوف ،چاہے کچھ بھی ہو جاۓ ۔
میرا خط کافی لمبا ہو گیا ہے ۔لیکن ابھی بھی میں تمھیں اتنا کچھ بتانا چاہتا ہوں ،لیکن ایک خط میں کتنا کچھ سما سکتا ہے ؟


میں شروع میں کہ چکا ہوں ،تم خوش قسمت ہو کہ تم اس عظیم جدوجہد آزادی کی گواہ ہو جو ہمارے ملک میں جاری ہے ۔تم اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہو کہ تمھارے پاس تمھاری ماں جیسی بہادر ،حیرت انگیز عورت ہے اور اگر کبھی مشکوک ہو یا مصیبت میں ہو تو اس سے بہتر کوئی دوست نہیں ۔
خدا حافظ میری ننھی ،تم انڈیا کی خدمت کے لئے ایک بہادر سپاہی بنو ۔
ڈھیروں پیار اور نیک خواہشات

“دنیا کی تاریخ کی جھلکیاں / Glimpses of World History
مصنف جواہر لال نہرو
انگریزی سے براہ راست اردو ترجمہ
مترجم عقیلہ منصور جدون
نوٹ
یہ کتاب بنیادی طور پر نہرو کے اپنی بیٹی اندرا گاندھی کو لکھے گئے خطوط پر مشتمل ہے ۔جو اس نے اپنی قید کے دوران جیل سے لکھے ۔یہ پہلا خط ہے ۔

جواہر لال نہرو چودہ نومبر ۱۸۸۹ /1889 میں الہ آباد میں پیدا ہوے ۔انگلینڈ میں ہیرو /Harrow اور کیمبریج سے تعلیم حاصل کی ۔1912 میں وطن واپس آکر برٹش کالونیل رول کے خلاف جدوجہد میں مرکزی کردار ادا کیا ۔پھر آزاد اںڈیا کے سترہ سال وزیر آعظم رہے ۔قوم کے مستقبل کو جدید سیکولر اور جمہوری شکل دی ۔وہ وزیر آعظم کی حیثیت میں ہی ستائیس مئی انیس سو چونسٹھ کو فوت ہوے ۔
نہرو ایک عمدہ مصنف بھی تھا ۔اسکی تین کتابیں بہت مشہور ہیں

سوانح عمری
دنیا کی تاریخ کی جھلکیا ں /Glimpses of World History
انڈیا کی دریافت /Discovery of India


 

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close