بلاگ

ماضی کا دریچہ /حامد علی

سچ ہے کہ ہماری شخصیت میں ، ہماری تہذیب و تمیز میں ، بول چال اور نشست و برخاست میں ہمارے ماں باپ یا پسندیدہ کردار بول رہے ہوتے ہیں ۔۔یا یوں کہیئے کہ وہ ہم میں جیتے ہیں ۔۔گھر انسان کی تربیت کا گہوارہ ہوتا ہےجانے انجانے کانوں میں پڑنے والے الفاظ ہی زندگی بھر دہرائے جاتے ہیں ۔۔

ماں باپ بہن بھائی محلہ مدرسہ سماج آپ پہ اثر انداز ہوتے ہیں پھر اس میں آپ کی فطرت بھی آن شامل ہوتی ہے ۔۔ماں باپ کے جانوروں سے لے کر انسانوں تک سے رویے ذہنوں پہ ثبت ہو جاتے ہیں ۔۔باپ اسپرین کی گولی توڑ کر پیالی میں پانی لے کر کبوتر کے بیمار بچے کو ہاتھ پر بٹھا کر جب اسپرین ملا پانی پلاتا ہے اور اگلی صبح اٹھ کر اس کی کیفیت دیکھتا ہے تو دیکھنے والے بچوں کے دلوں میں خود بخود پرندوں کے لئے ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے ۔۔

جب کوئی بچہ بکریوں، مرغیوں کو آنگن میں اور گرسلوں اور فاختاوں کو درخت سے اتر کر صحن میں ماں کے پیچھے پیچھے بے خوف چلتے دیکھتا اور ماں کو گوندھے ہووے نرم آٹے کی گولیاں بنا کر انہیں ڈالتے ہووے دیکھتایا گرمیوں میں ہر ایک گھنٹے کے بعد مٹی کی کونڈی میں پانی کی سطح دیکھ کر مزید پانی ڈالتے ہوئے  دیکھتا اور یہ بھی دیکھتا کہ ماں کے پاس جانے سے پرندے بالکل نہیں اڑتے جبکہ ہمارے پاس جانے سے اڑ جاتے ہیں ۔۔

پھر سحر دم ماں کو پرندوں کا برتن دھوتے ہوئے اور تازہ پانی سے بھرتے ہوئے دیکھتا تو شعور کے کسی گوشے میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے ۔۔ کہ خدمت جو صلے کے لالچ کے بغیر کی جائے سے بڑھ کر دنیا میں کوئی جادو نہیں ہے ۔یہ تحفظ کا احساس ہے جو معصوم پرندوں کے دلوں سے خوف کو نکال دیتا ہے ۔نانی اماں پریوں کی کہانیاں سناتیں تو اس میں ایک ایسی پری بھی ہوتی تھی جس کے ہاتھ میں جادو کی چھڑی ہوتی تھی اور اس کے چھونے سے سوکھی شاخوں پہ پھول اور پتے نکل آتے تھے ۔۔ وہ جسے اس چھڑی سے چھوتی وہ جگمگا اٹھتا ۔

 

ہوش سنبھالنے پہ بھید کھلا کہ ماں ہی وہ پری ہے اور اس کے پاس ہی محبت کی وہ جادوئی چھڑی یہ جسے اس سے چھوتی ہے وہ اس کا ہو جاتا ہے ۔۔ماں کو سب سہولتیں میسر تھیں لیکن نجانے کیوں چارپائی سے لیکر کرسیاں بننا سردی کی آمد پہ اون کے گولے اور سلائیاں منگوا کر سویٹر بننا ۔۔ رضائیاں تیار کرنا ۔۔ یعنی وقت کا مثبت مصرف چاہیئے ۔۔کھانا بنا کر پڑوسیوں کے ہاں بھجوانا ۔۔ کبھی کسی فقیر کو در سے خالی نہ لوٹانا ۔۔

باپ نے ہمیں کبھی نہیں کہا کہ جھوٹ بولنا بری بات ہے. انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ یا اپنی بات کی سچائی ثابت کرنے کے لئے اور دوسرے کو یقین دلانے کے لئے قسمیں کھانا ضروری نہیں ہے ۔۔ہم نے انہیں کبھی قسم کھاتے نہیں دیکھا کوئی یقین کرتا ہے تو کرے نہیں کرتا تو نہ کرے ۔

لیکن ان کو دیکھ کر ہمیشہ یہ لگا کہ آدمی کو ایسا ہی ہونا چاہیے .وہ کہتے رشتے تعلقات دوستیاں سب بھروسے پہ ٹکے ہیں ۔سماج میں اچھا یا برا اعتبار بنانے کے لئے سماج کے تیئں آپ کا رویہ ذمہ دار ہے ۔اس دنیا سرائے سے ہر نسل کو اپنا بوجھ اگلی نسل کو دے کر کوچ کرنا ہے ۔۔کیا کھویا کیا پایا کا سوال اپنی جگہ کیا ہم اگلی نسل کو روایت و تہذیب منتقل کرنے میں کامیاب ہوئے ؟سوال باقی ہے ۔۔

 

تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close