بلاگ

“بند کردو” کی پالیسی کو اب بند کردیجئیے.

آج کل ہمارے ملک میں ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہر طرف ایک ہی راگ الاپا جارہا ہے ۔ وہ راگ ہے بند کر دو کا۔ اگر کسی کو “یو ٹیوب” پر اپنے بارے میں کوئی بات بری لگی تو اس نے حکم دے دیا کہ “یو ٹیوب” کو بند ہونا چاہئیے۔ اگر کسی کو “پب جی ” جیسی گیم اچھی نہیں لگی تو اسے بند کردیا جاتا ہے ۔ کسی نے شکایت کر دی کہ “ٹک ٹاک” پر ہمارے شعائر کے منافی مواد ہوتا ہے تو اسے بند کرنے کی آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں ۔ اور تو اور اب کتابوں پر بھی پابندی لگنی شروع ہوگئی ہے۔

جس کی تازہ مثال پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ کی طرف سے 100 سے زائد درسی کُتب پر پابندی لگانا اور 10 ہزار مزید کُتب کا جائزہ لینا ہے ۔ اب بظاہر تو اس کا مقصد ان کتابوں میں موجود اغلاط کی نشاندہی کرنا ہے ۔ مگر دراصل یہ ریاست کے بیانیے سے مختلف مواد پر آزادی رائے کے حوالے سے قدغن لگانا ہے۔ کیونکہ اگر تو صرف مقصد اصلاح ہی ہوتا تو ان پر مکمل پابندی نہ لگائی جاتی ۔ بلکہ ان کتابوں کے مصنفین اور چھاپنے والوں سے رابطہ کر کے ایسے کسی قابلِ اعتراض مواد کو درست کیا جاتا ۔

یہی حال پنجاب اسمبلی کی طرف سے پاس کئے گئے تحفظِ اسلام بل 2020 کا نظر آتا ہے۔ جس کا مقصد بھی بظاہر یہ بتایا گیا کہ یہ مقدس ہستیوں ، جیسا کہ پیغمبروں ، انبیاء کرام اور صحابہ کی تکریم کے حوالے سے ہے ۔ مگر اس کی آڑ میں اس بل میں ایک ایسی شِق بھی شامل کردی گئی ۔ جس کے مطابق اگر کسی بھی کتاب کے حوالے سے یہ شبہ ہوگا کہ اس میں کوئی قومی مفاد اور مذہب کے منافی مواد ہے تو اس کتاب کی فروخت کو ڈی جی پی آر کے ایک افسر کی مدد سے روک دیا جائے گا یا اس پر پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے۔

اب یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قومی مفاد کا تعین کیسے اور کس کی طرف سے کیا جائے گا ؟ کیونکہ عموماً ہمارے ملک میں قومی مفاد سے مراد ایک خاص ادارے کا مفاد ہی لیا جاتا ہے۔ پھر مذہب کے حوالے سے بھی مواد کی جانچ کرنے والے بورڈ میں شامل علماء کی قابلیت کیا ہو گی اور وہ کسی کتاب کے مواد سے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے کیا اپنے مسلک کو مدِ نظر نہیں رکھیں گے ؟ کیونکہ ہمارے ہاں تو معمولی معمولی باتوں پر مسالک کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوپاتے ہیں۔

اسی طرح میڈیا چینلز والوں کو بھی پیمرا کی طرف سے گاہے بگاہے کسی نہ کسی پروگرام کے مواد کے حوالے سے احکامات صادر ہوتے رہتے ہیں۔ جس کی ایک مثال پیمرا کی طرف سے شاہ زیب خانزادہ کے نیب کے پروگرام کے حوالے سے بھیجا گیا نوٹس ہے۔ جس میں ان پر یہ اعتراض کیا گیا کہ میر شکیل الرحمن کے حوالے سے پروگرام کرتے ہوئے انھوں نے نیب کا موقف درست طریقے سے پیش نہیں کیا تھا ، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔  اسی طرح کبھی کچھ حساس اداروں کی طرف سے حامد میر کے پروگرام کے ایک حصے کو صرف اس لیے سنسر کردیا جاتا ہے کہ اس کا موضوع صحافی مطیع اللہ جان کے اغواء کا واقعہ تھا ۔

یہی حال سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا ہے ۔ فیس بک اور ٹویٹر پر گھٹن اتنی بڑھ چکی ہے۔ کہ تھوڑا سا بھی مختلف نقطہ نظر برداشت نہیں کیا جاتا۔ آپ اگر فوج یا کسی اور ریاستی ادارے کی طرف سے اٹھائے گئے کسی غلط اقدام  پر بات کریں تو آپ غدار ، بھارت کی کسی ضمن میں تعریف کردیں تو ایجنٹ، مذہب کے کسی معاملہ کے حوالے سے بات کردیں تو آپ کافر اور کسی سماجی مسئلے کو زیر بحث لے آئیں تو مایوسی پھیلانے والے قرار پاتے ہیں ۔ اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی بند یا محدود کرنے کا فیصلہ ہی نہ لے لیا جائے ۔

اس ساری تشویش ناک صورتحال سے یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید اس وقت ہمارے ملک میں کوئی جمہوری حکومت نہیں بلکہ کسی ڈکٹیڑ کا راج ہے ۔ کیونکہ اظہار رائے پر اس طرح کی پابندیاں تو ڈکٹیٹر کے دور حکومت میں ہی دیکھنے میں ملتی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان جو کہ اقتدار میں آنے سے پہلے آزادی اظہارِ رائے کے حوالے سے بھاشن دیتے نہیں تھکتے تھے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد جس طرح انھوں نے باقی سب امور پر یو ٹرن لیا ہے ۔ اس ضمن میں بھی اپنے ہی بیانیے کی نفی کی ہے ۔عمران خان صاحب اور باقی مقتدر حلقوں کو اس بات کو سمجھنا چاہئیے کہ اگر ان کو یہ لگتا ہے کہ اظہارِ رائے پر اس قسم کی پابندیاں لگا کر وہ اپنی مرضی کا بیانیہ مسلط کر لیں گے تو یہ ان کی خام خیالی کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے ۔ کیونکہ سچ تو ہر حال میں سامنے آکر ہی رہتا ہے۔ اب نہیں تو پھر کبھی عیاں ہو ہی جائے گا۔ اس لیے ان سے التماس ہے کہ ہر سطح پراس “بند کر دو” کی پالیسی کو ترک کردیں ۔ کیونکہ پہلے ہی ہم ماضی میں اس طرح کے اٹھائے گئے اقدامات کا خمیازہ اب تک بھُگت رہے ہیں۔ اور اگر اب بھی  یہ روش نہ بدلی گئی تو اس کے نتائج اور بھی زیادہ  خطرناک ہوں گے۔

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close