بلاگ

اوقاتِ نماز میں سائنس کی مصلحتیں/ نور حسین افضل

نور حسین افضل

دن میں پانچ بار ادائیگی نماز سے انسانی جسم میں ایک تحریک پیدا ہوتی ہے۔ یہ تحریک ادائیگی فرض کے ساتھ سائنسی اعتبار سے انسانی جسم کے لیے بے حد مفید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پانچ مختلف اوقات میں نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ سائنس کے اعتبار سے ان اوقات کے کیا فوائد ہیں۔

  1. نماز فجر(Fajir Prayer)
    نماز فجر اس وقت ہوتی ہے جب رات ڈوبنے کو ہوتی ہے اور اس وقت آدمی رات کے سکون اور آرام کے بعد اٹھتا ہے۔ سائنس اور حفظان صحت (Hygiene) کا اصول ہے کہ کسی بھی ورزش کو کرنے کے لیے آہستہ آہستہ اپنی رفتار، قوت اور لچک میں اضافہ کیا جائے۔ حتیٰ کہ دوڑنے کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ اس میں پہلے آہستہ آہستہ دوڑیں، پھر تیز پھر اور تیز اور پھر سبک رفتار بن جائیں۔
    اب اگر انسان صبح اٹھتے ہی سترہ رکعات کی نماز پڑھے تو اس کی جسمانی صحت بہت جلد تھک جائے گی اور وہ بہت جلد اعصاب اور بے طاقتی کا مریض بن جائے گا اور پھر رات سونے کے بعد صبح اٹھتے ہی پیٹ خالی ہوتا ہے اور خالی پیٹ اور اس وقت جب اعضاء رات بھر سکون میں رہے ہوں اور پھر فوراً انہیں تحریک دی جائے دونوں حالتوں میں سخت محنت اور زیادہ اٹھک بیٹھک بہت مضر ہے اس لیے اللہ رب العزت نے صبح کی نماز بہت مختصر رکھی ہے۔
  2. نماز ظہر (Zuhher Prayer)
    صبح سے دوپہر تک آدمی کسب معاش کے لیے ساعی و کوشاں رہتا ہے۔ اسی دوران گرد و غبار، دھول اور مٹی سے اس کا واسطہ پڑتا ہے۔ بعض اوقات ایسے زہریلے کیمیکل ہوا کے ذریعے کھلے اعضائ، چہرے اور ہاتھوں پر لگ جاتے ہیں جو اگر زیادہ دیر رہیں تو انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ تو ایسی کیفیت میں جب آدمی وضو کرتا ہے تو اس پر سے تمام کثافتیں اور تھکان دور ہو جاتی ہے اور اس پر سرور اور کیف کی ایک دنیا روشن ہو جاتی ہے۔
    سورج کی تمازت ختم ہوکر جو زوال سے شروع ہوتی ہے تو زمین کے اندر سے ایک گیس خارج ہوتی ہے یہ گیس اس قدر زہریلی ہوتی ہے کہ اگر آدمی کے اوپر اثر انداز ہو جائے تو وہ قسم قسم کی بیماریوں میں مبتلا کردیتی ہے۔ دماغی نظام اس قدر درہم برہم ہو جاتا ہے کہ آدمی پاگل پن کا گمان کرنے لگتا ہے۔ جب کوئی بندہ ذہنی طور پر عبادت میں مشغول ہو جاتا ہے تو اسے نماز کی نورانی لہریں اس خطرناک گیس سے محفوظ رکھتی ہیں۔ اب نورانی لہروں سے یہ زہریلی گیس بے اثر ہو جاتی ہے۔
  3. نماز عصر (Assar Prayer)
    زمین دو طرح سے چل رہی ہے۔ ایک گردش محوری اور دوسری طولانی۔ زوال کے بعد زمین کی گردش میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ یہ گردش کم ہوتی چلی جاتی ہے اور عصر کے وقت تک یہ گردش اتنی کم ہو جاتی ہے کہ حواس پر دباؤ پڑنے لگتا ہے۔ عصر کی نماز شعور کو مضمحل ہونے سے روک دیتی ہے جس سے دماغ پر خراب اثرات مرتب ہوں۔ وضو اور عصر کی نماز قائم کرنے والے بندے کے شعور میں اتنی طاقت آ جاتی ہے کہ وہ لاشعوری نظام کو آسانی سے قبول کر لیتا ہے اور اپنی روح سے قریب ہو جاتا ہے۔ دماغ روحانی تحریکات قبول کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
  4. نماز مغرب (Maghrib Prayer)
    آدمی بالفعل اس بات کا شکر ادا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رزق عطا فرمایا ہے اور کاروبار سے اس کی اور اس کے بچوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ شکر کے جذبات سے وہ مسرور اور خوش و خرم اور پرکیف ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر خالق کائنات کی وہ صفات متحرک ہو جاتی ہیں جن کے ذریعے کائنات کی تخلیق ہوتی ہے۔ جب وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ پرسکون ذہن کے ساتھ محو گفتگو ہوتا ہے تو اس کے اندر کی روشنیاں (لہریں) بچوں میں براہ راست منتقل ہوتی ہیں اور ان روشنیوں سے اولاد کے دل میں ماں باپ کا احترام اور وقار قائم ہوتا ہے۔ بچے غیر ارادی طور پر ماں باپ کی عادات کو تیزی کے ساتھ اپنے اندر جذب کرتے ہیں اور ان کے اندر ماں باپ کی محبت اور عشق کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ مغرب کی نماز صحیح طور پر اور پابندی کے ساتھ ادا کرنے والے بندے کی اولاد سعادت مند اور ماں باپ کی خادم ہوتی ہے۔
  5. نماز عشاء (Isha Prayer)
    انسان جب کاروبار دنیا سے فارغ ہو کر گھر آتا ہے تو وہ کھانا کھاتا ہے اور لذت میں کھانا زیادہ کھا لیتا ہے۔ اب اگر وہ اس کھانے کے بعد لیٹ جائے تو مہلک امراض میں مبتلا ہو جائے گا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک اور فائدہ بھی دیا ہے کہ سارا دن کا تھکا ہوا ذہن لے کر اگر نیند کرے گا تو بے سکون ہوگا۔ اس کو سکون نماز کے اندر ملے گا۔
    اب تو ماہرین سونے سے قبل ہلکی ورزش پر زور دیتے ہیں اور خود ماہرین کا کہنا ہے کہ نماز سے بڑھ کر سوتے وقت کی کوئی ورزش نہیں۔ گویا ادائیگی فرض بھی ہوا اور عشاء کی طویل نماز سے صحت کو بھی فوائد میسر آئے۔
  6. نماز تہجد (Tahajud Prayer)
    جیسا کہ پہلے ذکر کیا کہ تہجد کی نماز سے طویل تحقیقات کے بعد مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہوئے ہیں جو ماہرین نے اپنی کتب اور واقعات میں بیان کیے ہیں۔
    ۱) بے سکونی، نیند کی کمی اور دل کے امراض کے لیے تریاق اعظم ہے۔
    ۲) دماغی امراض خاص طور پر پاگل پن کی خطرناک کیفیت کے لیے بہترین علاج ہے۔
    ۳) انسانی جسم میں نشاط فرحت اور غیر معمولی طاقت پیدا کرتا ہے جو اسے سارا دن ہشاش بشاش رکھتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر نماز اس کے وقت میں پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close