بلاگ

سب رنگ / محسن علی خان

محسن علی خان

گلزار نے سچ کہا ہے، “ شکیل عادل زادہ، ہمارے مّلاح ہیں، ہمارے ناخدا ہیں، ہمارا سفینہ ادب اُن کے حوالے، یہ ادب سمندر ہے اور ڈوب کے جانا ہے“۔ آج اس بات کا برملاء اعتراف کرتا ہوں ، کہ زمانہ طالبعلمی میں اگر کوئی ڈائجسٹ سب سے زیادہ انہماک سے پڑھا ہے تو وہ ” سب رنگ ” ہی ہے۔ یہ بات تسلیم کرنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ ہمیشہ پرانا شمارہ ہی ہاتھوں میں رہا، شاید کم پیسوں میں زیادہ کتابیں حاصل کرنے کی لالچ کہہ سکتے یا عقل و فہم کی کمی کہ نیا شمارہ خریدنے کی بجاۓ توجہ کم پیسوں میں زیادہ سے زیادہ ناولوں کے حصُول کی طرف مبذول ہوتی تھی۔ دونوں صورتوں میں اپنے آپ کو قصوروار نہیں کہہ سکتا۔ اس کی ایک بنیادی وجہ گھنٹہ گھر فیصل آباد کی حدود ہو، یا امین پور بازار کے باہر پرانی کتابوں کا سٹال یا ریگل روڈ پر واقع کچھ دکانیں جہاں سے ڈائجسٹ کا حصول سب سے آسان عمل تھا، دوسری بنیادی وجہ ایک ایسی سکیم تھی جو ہر وقت دماغ میں پھڑپھڑاتی تھی، وہ ریگل روڈ والی ایک ایسی دُکان تھی جو آپ سے تین پُرانے ناول/ڈائجسٹ کے بدلے ایک نیا ناول/ڈائجسٹ دیتے تھے۔ اس سکیم سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔ ایسی ایک دُکان گھر کے پاس بھی دریافت کی تھی لیکن ان کے پاس وہ نایاب کولیکشن نہیں تھی۔

مایہ ناز کالم نویسوں محترم عامر ہاشم خاکوانی، رؤف کلاسرہ اور جاوید چوہدری و دیگر احباب کی تحاریر سے پتہ چلا کہ ہر طرف شکیل عادل زادہ کے ” سب رنگ “ کے پھول کھل رہے ہیں اور خوشبو کی سمت بُک کارنر ( جہلم ) تھی۔ ناشرین صاحبان ، امر شاہد اور گگن شاہد نے یقیناً کوئی کمال پھر دکھایا ہو گا، اسی تجسس میں جب مزید تحقیق کی تو راز کھلا، اس بار کمال نہیں صرف، بلکے کمالات کی بلندی کو چھوا تھا۔ سب رنگ ڈائجسٹ کے تمام شمارے اب ایک خوبصورت کتابی شکل میں اپنا رنگ بکھیرنے کو تیار تھے۔ اسی سلسلے میں اس کا پہلا حصہ شائع ہو گیا تھا۔
بچپن سے جو ایک کسک تھی دل میں کہ کبھی نیا شمارہ لے کر پڑھنے کا موقع نہیں ملا وہ اب حسرت پوری کرنے کا وقت آچکا تھا۔ فوراً بک کارنر جہلم سے رابطہ کر کے جن پانچ کتابوں کا آڈر کیا اس میں سر فہرست ” سب رنگ ” ہی تھا۔ چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت میں آڈر کی ہوئی کتابیں جہلم سے فیصل آباد میرے دروازہ پر تھیں۔ لیکن مجھے حیرانی نہیں ہوئی، کیونکہ یہ میرا دوسرا تجربہ تھا، پہلے تجربہ میں فرانسیسی ناول نگار ہنری بالزاک کا ناول جس کا ترجمہ رؤف کلاسرہ صاحب نے ” تاریک راہوں کے مسافر ” کے نام سے کیا تھا، اس ناول کو بھی بک کارنر کی ٹیم نے اتنے کم وقت میں پہنچایا تھا۔ خوبصورت ناول اور انتہائی عمدہ کاغذ کا استعمال، نفاست سے کی ہوئی پیکنگ اور مناسب قیمت نے دل موہ لیا تھا۔
رؤف کلاسرہ صاحب کا شکریہ کے انہوں نے بالزاک سے متعارف کروا دیا، اسی لئے بالزاک کا ایک اور ناول جس کا ترجمہ بھی رؤف کلاسرہ صاحب نے ” سنہری آنکھوں والی لڑکی ” کے نام سے کیا ہے، وہ بھی اب میری چھوٹی سی لائبریری میں براجمان ہو چکا ہے۔ ان ناولوں پر حاشیہ پھر کسی دن کے لئے اُٹھا رکھتے ہیں۔ ابھی واپس اپنے رنگ یعنی سب رنگ میں آتے ہیں۔

سب رنگ پاکستان اور دوسرے ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی دھڑکن کیوں اور کیسے بنا، اس راز سے پردہ شکیل صاحب نے خود اٹھایا ہے۔ چونکہ سب رنگ کا معیار اس کے ہر لحاظ سے مکمل افسانے اور کہانیاں تھیں۔ کسی بھی کہانی یا افسانہ کو جس مشکل امتحان سے گزار کر شائع کیا جاتا تھا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ موصول ہونے والی کہانیاں فکشن کے طلب دار اور ادب سے محبت رکھنے والے احباب کو پڑھائی جاتی تھیں۔ ان سے راۓ طلب کی جاتی تھی۔ یہ ایک دلچسپ مرحلہ ہوتا تھا۔ اس میں راۓ دینے والا فرد الفاظ کی بجاۓ اعداد میں راۓ دیتا تھا۔ کہانی کو کُل سو نمبروں میں تقسیم کیا جاتا اور راۓ دینے والے فرد سے کہا جاتا وہ اپنی کہانی سے متعلق پسندیدگی کا اظہار ان سو نمبروں میں سے کرے۔ بیس، تیس، چالیس ، پچاس سے سو تک نمبر دئیے جاتے، صفر نمبر دینے کا آپشن بھی استعمال ہو سکتا تھا۔ تمام افراد کی راۓ کو یکجا کیا جاتا تھا۔ جس کہانی کی پسندیدگی مجموعی طور پر پچاس فیصد سے اُوپر جاتی، وہ کہانی سب رنگ کی زینت بنتی تھی۔ آپ اس قدر مشکل امتحان سے اندازہ لگا سکتے کہ کس درجہ کی کہانی شائع ہوتی تھی سب رنگ ڈائجسٹ میں۔

شکیل عادل زادہ کے سامنے دو آپشن تھے، پہلا ، کہانیوں کے معیار پر سمجھوتا کر لیتے، ڈائجسٹ کا پیٹ بھرنے کے لئے ڈنگ ٹپاؤ کہانیوں سے کام چلاتے، ڈائجسٹ کو پیسہ بنانے والی مشین کے طور پر استعمال کرتے اور سیٹھ شکیل عادل زادہ کے نام سے جانے جاتے اور صرف ایک عشرہ کے بعد گمنامی کا شکار ہو کر پس پردہ چلے جاتے۔ دوسرا آپشن، اپنی جان اپنا سرمایہ، اپنے جنون اور علمی ذوق میں جھونک دیتے، ہر منفی خیال کو دل سے نکال پھینکتے، مالی خسارہ برداشت کر لیتے، پانچ عشرے گزرنے کا باوجود اپنے قارئین کے دلوں میں زندہ رہتے، عزت و احترام پاتے۔ ایک خوبصورت با اُصول شخص کے طور پر جانے جاتے۔

شکیل عادل زادہ نے دوسری آپشن کو اپنی سانسوں سے بڑھ کر ترجیح دی، یہی وجہ تھی کہ کہانی اپنے سخت معیار پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے ڈائجسٹ میں جگہ نہ بنا پاتی، جس کا اثر ڈائجسٹ کی اشاعت پر پڑتا، ہر ماہ چھپنے والا ڈائجسٹ، تین ماہ کے وقفے سے چھپنے لگا، یہ وقفہ بڑھ کر چھ ماہ ، پھر سال بعد ، پھر دو سال ، پھر تین سال تک آگیا۔
آپ ذرا تصور کریں، تین سال بعد صرف ایک شمارہ، شاید ہی دُنیا میں کسی بھی ڈائجسٹ کا اتنا سخت معیار ہو۔ لیکن یہی معیار سب رنگ کے عروج کا باعث بنا، قارئین نے تین سال بھی انتظار ہی کیا اور جیسے ہی شمارہ شائع ہوتا، ایک دن میں تمام سٹالوں سے اپنے چاہنے والوں کے ہاتھوں میں پہنچ جاتا۔
اس کی وجہ وہ لگن اور قارئین سے محبت تھی کہ شکیل صاحب کا کہنا تھا وہ چاہتے ہیں جب اپنے قارئین کے سامنے جائیں تو سر جھکا ہوا نہ ہو۔

سب رنگ کے تمام شمارے کیسے اب اپنے قارئین تک پہنچ پائیں گے، یہ داستان بھی پڑھ کر جس خوبصورت انسان کو داد دینی بنتی ہے وہ حسن رضا گوندل ہے۔ روسی ادیب چیخوف کی طرح ایک ادبی ذوق سے مالا مال شخص۔ جس کے خواب نے تمام تر مشکلات کے باوجود بالآخر تعبیر پکڑ لی۔ اپنا خواب لے کر شکیل عادل کی خدمت میں جب حاضر ہوا تو شکیل صاحب کی آنکھوں میں دیکھ کر ان کی بات یاد کی ” بعض اوقات صرف ایک برجستہ اور معنی خیز عنوان طے کرنے میں گھنٹوں صرف ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایک کہانی خود کو کئی بار لکھواتی ہے۔ تب جا کر جی مطمئن ہوتا ہے اور تب سب رنگ ظہور میں آتا ہے”۔
جو شخص صرف ایک عنوان پر گھنٹوں صرف کرے اس کے سامنے اب پورے چار عشروں پر محیط اس کی محنت کو یکجا کر کے اپنے چاہنے والوں کے لئے پیش کرنا بلاشبہ انتہائی مشکل ٹاسک تھا۔ لیکن یہ شکیل عادل زادہ کی یقین سے بھری تھپکی تھی کہ حسن رضا گوندل نے سب رنگ کی یہ چوٹی سر کر لی۔
سب رنگ کے پہلے والیم میں سمندر پار سے دنیا کے ممتاز ادیبوں لیو ٹالسٹائی، او ہنری، سمرسٹ مام ، چیخوف، موپاساں، سمیت تیس شاہکار افسانوں کے تراجم شامل کیے گئے ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک شاندار افسانہ پڑھنے کو مل رہا ہے۔ ہر افسانہ اپنے اختتام پر شکیل عادل زادہ کی محنت کو سلام کیے بغیر آگے بڑھنے نہیں دیتا۔ یہی سب رنگ کی خوبصورتی تھی جو آج پچاس سال بعد بھی اپنا شاہانہ انداز قائم رکھے ہوۓ ہے۔

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close