بلاگ

دلی کی یاد میں/ نعیم گھمن

نعیم گھمن

مغل بادشاہ مقبرہ ہمایوں کا منظر ۔دلی اک ایسا شہر جس نے صدیوں لوگوں کے دلوں پر حکومت کی ہے ۔اس شہر کی تہذیب ۔ثقافت اور کلچر کا اپنا ہی رنگ ہے ۔کتنے ہی بادشاہ اس شہر کے تخت نشین ہوئے اور کتنے ہی اس کی تخت نشینی کے حصول میں مارے گئے ۔اس شہر میں معروف صوفی بزرگ خواجہ نظام الدین اولیاء اور ان کے مرید خاص خواجہ امیر خسرو کا مزار بھی ہے ۔اردو کا معروف شاعر غالب بھی تو دلی کی خاک میں ہی آرام فرما ہے ۔ دلی میں کئی سلطان مدفون ہیں ۔اس شہر کا ذرہ ذرہ تاریخ کے اوراق میں زندہ ہے ۔کبھی کبھی تو دل کرتا ہے کہ دلی کے گلی کوچوں میں مٹر گشت کی جائے ۔مقبرہ ہمایوں میں چھپے ہوئے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی بے بسی ملاحظہ کی جائے ۔میجر ہڈسن کی سگندلی کو دیکھا جائے جس نے اسی مقبرہ ہمایوں سے بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کیا تھا اور اس کے بیٹوں کو گولیاں مار دی تھیں ۔میر تقی میر کی آہ زاریاں سنی جائیں ۔دلی کے روایتی کھانے کھائے جائیں ۔اندرون دلی کی دم توڑتی تہذیب کو اپنے من میں سمویا جائے ۔خواجہ فخر الدین جہاں دہلوی کے لنگر سے حظ اٹھایا جائے ۔

الغرض دوستو دلی اک شہر بے مثال ہے ۔ہندوستان و پاکستان کا کوئی شہر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔شمس الرحمن فاروقی کا ناول ۔کئی چاند تھے سر آسماں ، پڑھ کے آپ دم توڑتی دلی کے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں ۔دلی غالب و مومن ۔مصحفی و میر کی ہے ۔صوفیاء چشت کی آمجگاہ ہے ۔دلی کے باسی بجا طور پر اپنی تاریخ پر فخر کر سکتے ہیں ۔یہ تصویر دیکھی تو دل چاہا کہ اڑ کے دلی جا پہنچوں اور آوارہ گردی کے نقوش دلی کی شاہراوں پر بھی ثبت کر آوں ۔

تقسیم ہند کو مدت ہو چلی مگر آج بھی ہمارے بڑے شہروں میں ہندوستان کے مختلف علاقوں کے ناموں پر کاروبار اور محلے نظر آتے ہیں ۔درحقیقت یہ اک تہذیبی جڑت ہے جس سے فرار ممکن نہیں ۔دلی جانا تو مشکل ہے ۔کڑے پہرے ہیں مگر اس کو یاد تو کیا جا سکتا ہے ۔
نعیم گھمن

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close