ادبی کالمبلاگ

بھمالا ؛ طلوع مہتاب کی سرزمین /انجینئر مالک اشتر

انجینئر مالک اشتر

اس روز دفتر سے لوٹتے ہوئے جونہی میری نظر تانگے پر پڑی میں نے وہیں سے صدا لگائی!! ”کیا تانگہ خالی ہے۔۔؟“
کوچوان نے سر پیچھے گھمایا اور مجھے دیکھتے ہی کہنے لگا ”بابو جی ! آپ کے لئے تانگہ تو کیا۔۔۔گھوڑا بھی حاضرِ خدمت ہے“ اور پھر اس نے دھیمے سروں میں پنجابی لوک گیت ”ویرؔ میرا گھوڑی چڑھیا“ گنگنانا شروع کر دیا جس کا مطلب ہے کہ میرا بھیا سہرا باندھے گھوڑے پر بیٹھا کیا خوب سج رہا ہے۔!!
مجھے اس بے وقت گانے کی منطق سمجھ میں نہ آئی پنجاب کی مٹیاریں عموماً اپنے بھائی کی شادی کے موقع پر ایسے گیت گاتی ہیں۔ میں نے جب قریب جا کر دیکھا تو تانگے کی اگلی نشست پر مشرقی لباس میں ملبوس دو انگریز خواتین بیٹھی نظر آئیں یقینا صنفِ نازک کی موجودگی کی وجہ سے ہی شریر کوچوان کی رگ ظرافت بھڑک اٹھی تھی اور اس نے جان بوجھ کر یہ گیت چھیڑا تھا!!۔
میرے بیٹھتے ہی گھوڑا تارکول کی سڑک پر ٹک ٹک دوڑنے لگا۔
میں نے بدیسی خواتین سے رسما ًمزاج دریافت کیا اور انہیں عجائب گھر اور ٹیکسلا کے دیگر آثارِقدیمہ کے متعلق سر سر ی معلومات بھی باہم پہنچائیں فی الوقت وہ یوتھ ہاسٹل جانا چاہتی تھیں میں نے انہیں سامان سمیت وہاں تک باحفاظت پہنچانے میں پوری مدد فراہم کی۔ باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ ان کا آبائی وطن لاس اینجلس امریکہ تھا دونوں سہیلیاں یعنی ایمیؔ اور جولیاؔ تصوف کی شیدائی تھیں اسی سلسلے میں ترکی، ایران اور افغانستان کا سفر مکمل کرنے کے بعد پاکستان وارد ہوئی تھیں ان کی اگلی منزل ہندوستان اور تبت تھی۔وہ لاس اینجلس کے کسی مدرسے میں پڑھاتی تھیں اور اب موقع ملتے ہی وہ مشرقی ممالک کی سیر کی غرض سے ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں ادھر نکل آئی تھیں وہ بھی دیگر امریکی ہم وطنوں کی طرح مولانا رومؔ کی شاعری پر جان چھڑکتی تھیں اس سلسلے میں انہوں نے ترکی،افغانستان اور ایران کی تفصیلی سیر کی وہ رومیؔ، جامیؔ،حافِظ شیرازیؔ، شیخ سعدی ؔ،عریاں ؔ بابا اور عمر خیامؔ کے مزارات پر حاضری دے چکی تھیں چونکہ روحانیت میرا بھی پسندیدہ مضمون تھا اس لئے ہم جلد ہی ایک دوسرے سے بے تکلف ہوگئے۔
رقصِ درویش کے حوالے سے میرے استفسار پر ایمیؔ کہنے لگی کہ اس کی ادائیگی روحانی معراج کے مترادف ہے کہ جس میں ڈوب کر فہم و عرفان کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھتا ہے اور متعین محیط میں گھومتے ہوئے دل سوختہ، لامکان کا سراغ پا کر بےخودی سے اپنا ہی طواف شروع کر دیتا ہے ۔بعض اوقات جنون اور جذبہ اتنی بلندی کو چھونے لگتا ہے کہ ناچتے ناچتے دماغ میں خون جمنے سے رقاص کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔شاید یہی وہ مقام ہے جہاں رمزوآگہی اپنے آفاقی جلوے میں روبرو موجود ہوتی ہے کیونکہ گول دائرے سے شروع ہونے والی اجمالی حرکت رفتہ رفتہ کائنات کے مدار میں مدغم ہو جاتی ہے اور پھر ایک طاقت ور مرکز جو کہ الفا اور اومیگا یعنی اول اور آخر کی لافانی صورت میں موجود ہے ہر متحرک جسم کو اپنی کششِ ثقل کی مضبوط ڈور سے باندھ دیتا ہے“۔
میں نے لقمہ دیا ”تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ رقص ِ درویش دراصل قلب، روح اور اعضاء کی شاعری کا مرکب ہے“۔
مولانا جلال الدین رومیؔ(1207؁عیسوی تا 1273؁ عیسوی) کے اشعار کے انگریزی تراجم بھی ان کے پاس موجود تھے مولانا رومؔ کا ایک خوبصورت شعر سنا کر جولیاؔ کہنے لگی کہ بنسری کی لے اس لئے دل سوز ہوتی ہے کیونکہ وہ جس درخت کی شاخ سے کاٹی گئی تھی اس کا دکھ بھلا نہیں پاتی اور تمام عمر خاندان سے بچھڑنے کا غم اسے تڑپاتا رہتا ہے۔ چنانچہ ہم دونوں سہیلیوں نے مولانا روم ؔ کا آبائی گاؤں بلخؔ دیکھنے کا ارادہ کیا تاکہ وہاں کی رومانوی فضا میں سانس لے کر روحانی رویوں کی مٹھاس کو محسوس کر سکیں اور ان عوامل پر بھی غور کریں جنہوں نے ہجرت کے بعد قونیہ (ترکی) میں بھی مولانا روم ؔ کو چین سے نہیں رہنے دیا۔
انہوں نے حافظ شیرازی ؔ کے اشعار بھی سنائے عمر خیامؔ کی رباعیات کے حوالے سے فٹنر ؔجیرالڈ کا انگریزی ترجمہ بھی ان کے پاس موجود تھا۔ جواباً میں نے بھی انہیں پنجاب کے رومی میاں محمد بخش (1830-1907ء) کی سیف الملوک، پنجابی کافی کے بانی شاہ حسین(1599ء-1538ء)، سید بلھے شاہ( 1758ء-1680ء)اور خواجہ غلام فرید (1901ء-1841ء) کی کافیاں اور سید وارث شاہ (1798ء-1722ء)کے کلام سے چیدہ چیدہ انتخاب سنایا ۔
حسن و عشق کی لازوال داستانوں کے کرداروں کو رومانوی علامتوں کے سانچے میں ڈھال کر کلاسیکل صوفی شعراء نے تصوف کے ابدی دریچوں پر جس سوزوگداز سے دستک دی ہے دانائی سے معمور اس عارفانہ بصیرت کو محسوس کرکے وہ عش عش کر اُٹھیں اور اس قدر ذرخیز پنجابی ادب سے ابھی تک بے بہرہ رہنے پر اپنے آپ کو موردِ الزام ٹھہرانے لگیں۔ ان کی دلچسپی دیکھتے ہوئے میں نے انہیں چند کتب مہیا کرنے کا وعدہ کیا۔
ایمیؔ اور جولیاؔ کا ٹیکسلا میں آنے کا بنیادی مقصد یہ بھی تھا کہ وہ بدھ مت کے حوالے سے چند روحانی اور مقدس مقامات کی کھوج لگانا چاہتی تھیں اس کے علاوہ وہ مقامی جنگلوں میں بیٹھے صوفی اور سنتوں سے ملنے کی خواہش مند تھیں۔
کافی دیر ہو چکی تھی سفر کی تھکان کی وجہ سے انہیں جمائیاں آنے لگیں!! ادھر مجھے بھی بھوک ستا رہی تھی چنانچہ تفصیلی ملاقات اگلے دن تک مؤخر کر دی گئی۔
اتوار کو دفتر سے چھٹی تھی،آنکھ ذرا دیر سے کھلی۔میں جب تیار ہو کر یوتھ ہاسٹل پہنچا تو ایمیؔ اور جولیاؔ بے چینی سے میرا انتظار کر رہی تھیں کوچوان کو میں نے شام کو ہی کہلوا دیا تھا۔ خواتین نے اپنے سفری تھیلے کندھوں سے لٹکائے اور خوشی خوشی تانگے میں سوار ہو گئیں میں نے کوچوان کو ”خرم“چلنے کی ہدایت کی۔
”خرم“ ٹیکسلا کے انتہائی مشرقی جانب، خوبصورت پہاڑی سلسلے میں واقع ایک قدیم گاؤں کا نام ہے ۔گاڑی وہاں پہنچنے میں بمشکل آدھا گھنٹہ لیتی ہے خرمؔ سے ایک کچا راستہ ”دھمرؔا“ ندی کے ساتھ ساتھ پہاڑوں کے درمیان سے ہوتا ہوا ”بل“ کی جانب جانکلتا ہے۔”بل‘ؔ‘ ایک دلفریب اور پر فضا مقام ہے یہاں دنیا کے شور شرابے سے دور ایک درویش کئی سالوں سے سکونت پذیر ہے۔ وہ ہمیشہ کالا لباس پہنے، جنگل میں ننگے پاؤں گھومتا نظر آتا ہے۔ پیچ دار پگڑی کے نیچے لامبے لامبے سیاہ گیسو،سانپوں کی مانند جھولتے رہتے ہیں اور وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنے آپ میں مگن رہتا ہے پہلی نظر میں وہ مشہور انگریزی فلم Pirates of the Caribbean کے مرکزی کردارCaptain Jack Sparrow کی مانند لگتا ہے۔ ہماری بھی اس سے پرانی یاد اللہ تھی جب طبعیت اداس ہوتی تو اس کے چرنوں میں جا بیٹھتے۔ غیر ملکی خواتین نے جب کسی صوفی سے ملنے کا اشتیاق ظاہر کیا، تو میرے ذہن میں اس درویش کا خیال ابھرا تھا۔
خرمؔ پہنچ کر کوچوان نے تانگہ برگد کے سائے تلے کھڑا کر دیا اب ہمیں یہاں سے پیدل سفر کا آغاز کرنا تھا۔
اطراف کا قدرتی حسن دیکھ کر ایمیؔ اور جولیاؔ بہت متاثر دکھائی دیتی تھیں۔ چشموں کا ٹھنڈا پانی، پرندے،تتلیاں اور خودرو جنگلی پھولوں کی بہتات دیکھ کر جولیاؔ کہنے لگی ”کیا ہی اچھا ہو اگر میں یہاں سکون سے مر جاؤں اور میری قبر اس خوبصورت وادی کے گوشہ عافیت میں بنا دی جائے اور میری تنہا اور اداس روح ،ان سرسبزوشاداب وادیوں اور پہاڑی چوٹیوں پر طائرانہ نظریں ڈالتے ہوئے ان پرندوں کی مانند ہمیشہ نیلگوں آسمانوں میں اڑتی رہے“۔
مجھے کرشن چندر کا وہ افسانہ یاد آگیا جو اس نے کسی ایسے ہی موقع پر تحریر کیا تھا۔ لبِ لباب کچھ یوں تھا کہ ایک نئی نویلی دلہن اپنے شوہر نام دار کے ساتھ ہنی مون منانے کسی پہاڑی مقام پر گئی اور چھوٹتے ہی اپنے محبوب سے کہنے لگی”ہائے اللہ!! میں مر گئی۔۔۔۔! یہ آپ مجھے کہاں لے آئے ہیں یہاں کیا خاک مزا آئے گا۔۔۔ جدھر دیکھو۔۔۔۔بس پہاڑ ہی پہاڑ ہیں“۔
میں نے اس افسانے کے تناظر میں جولیاؔ سے کہا کہ ایک تم ہو کہ ان فطری مناظر پر فدا ہوئی جارہی ہو دوسری جانب ہماری دیسی خواتین ہیں کہ ان راستوں پر چلنے کا سوچ کر ہی ان کی جان نکل جاتی ہے۔ یہ لینڈ اسکیپ ان کے لئے محض فراغت بول وبراز کا کام دیتے ہیں۔
میری بات سن کر وہ اتنی خوش ہوئی کہ ہنستے ہنستے اس کی آنکھوں کی نیلگوں جھیلوں میں آنسوؤں کے کنول تیرنے لگے شاید اس کی پرکشش ہنسی کا یہی سربستہ راز تھا۔
جب ہم پھرتے پھراتے تارک ُالدّنیا درویش کے ڈیرے پر پہنچے تو ایک اور مسئلہ کھڑا ہوگیا سائیں جی نے خواتین کی بھنک پاکر ان سے ملنے سے ہی صاف انکار کر دیا میں نے جب انہیں قائل کرنے کی کوشش کی تو وہ سیخ پا ہو گئے اور بے نقط سنائیں۔۔۔۔۔۔۔وہ کسی طور بھی اپنے وضع کردہ اصولوں سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں تھے۔
ایمیؔ اور جولیاؔ خاصی مایوس دکھائی دیتی تھیں ان کی رائے میں موصوف ابھی تصوف کے پیچیدہ مراحل سے گزر رہے تھے یا پھر جس سلسلے یا مکتبہ فکر سے وابستہ تھے اس کا طریق کچھ ایسے ہی افعال کا متقاضی تھا۔ میں نے جولیاؔ سے مزید استفسار مناسب نہ سمجھا شاید وہ ٹھیک ہی کہہ رہی تھی کیونکہ مشرقی فلسفے پر اسے خاصا عبور حاصل تھا اور تصوف کی باریک بینیاں بھی اچھی طرح سمجھتی تھی۔
ہم تھکے ہارے شام گئے واپس لوٹ آئے۔
ٹیکسلا کے شمال مشرقی جانب دریائے ہروؔ کے کنارے ایک ابھری ہوئی ہموار چٹان پر بھمالاؔ کا مشہور اسٹوپ ایستادہ ہے۔شاہراہِ ریشم کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے کبھی تجارتی قافلوں اور بدھ مبلغوں کا پہلا پڑاؤ یہیں ہوا کرتا تھا۔ تبت،کوریا اور جاپان میں بدھ مت پھیلانے والے اکثر اساتذہ اور بھکشو اس علاقے سے تعلق رکھتے تھے کیونکہ اس دریا کے آس پاس کبھی ہیلینیائی طرز کا شہر اور اسٹوپے آباد تھے اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دریا کا نام غالبا” کسی یونانی سپہ سالار یا مشہور تاریخ دان ہیروڈوٹس (425 ق م – 484 ق م) کی مناسبت سے ہرو پڑ گیا ہو۔ مسلمان تاریخ دانوں نے دریائے ہرو کو نیلاب ( نیلا آب) کے نام سے بھی تحریر کیا ہے ۔
ایمیؔ اور جولیاؔ کا ٹیکسلا میں قیام نہایت مختصر تھا ویزے کی مدت ختم ہونے میں محض چند دن باقی تھے ان کی خواہش تھی کہ جتنی جلدی ممکن ہو بھمالاؔ کی سیر کر لی جائے۔
چنانچہ اگلے روز ہم پھر اکٹھے ہوئے اور بھمالاؔ جانے کے لئے خان پور والی بس میں سوار ہوگئے۔ بس مسافروں سے کھچاکھچ بھری ہوئی تھی غیر ملکی مہمان خواتین کو دیکھتے ہی نشستیں خالی کردی گئیں اور رفتہ رفتہ مسافروں نے انہیں گھیرے میں لے لیا اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں سوالات کی بوچھاڑکر دی اور مجھے مترجم سے زیادہ ثالث کے فرائض انجام دینے پڑے۔
بس نے ہمیں خان پور ڈیم کی وسیع و عریض جھیل کے پرلے کنارے پر اتار دیا۔
میں نے حبیبؔ کو پہلے سے ہی اطلاع کردی تھی وہ کھانا وغیرہ بنوا کر لے آیا حبیبؔ خان پور کا رہنے والا پرعظم نوجوان ہے ہم دونوں گذشتہ کئی سالوں سے ایک ہی دفتر میں ملازم ہیں۔ بھمالاؔ کا راستہ اس کے گاؤں سے ہو کر جاتا تھا وہ اس علاقے کے چپے چپے سے واقف تھا اس کا ساتھ ہمارے لئے نہایت ممدو معاون ثابت ہوا۔
تمام راستہ جھیل اور پہاڑ کی اتصالی پٹی کے ساتھ ساتھ چلتا تھا جو کہ گذشتہ مان سون کی بارشوں کی وجہ سے خاصا سنگ لاخ اور دشوار گذار ہو چکا تھا اس لئے بھمالاؔ تک جیپ میں سفر کرنا تقریباً ناممکن تھا۔ اس تمام صورتِ حال کے پیش نظر حبیب نے کشتی کا بندوبست بھی کر رکھا تھا چنانچہ ہم اللہ کا نام لے کر اس میں سوار ہو گئے۔
خان پور جھیل سے آگے نکلے تو دریا کا پاٹ کم ہو گیا ملاح نے ہمیں ایک مناسب جگہ اتار دیا۔۔باقی راستہ پیدل چل کر طے کرنا تھا ایک موڑ مڑے تو مٹی اور گارے سے لیپے پوتے چند مکانات پر نظر پڑی حبیبؔ نے بتایا کہ یہی بھمالاؔ گاؤں ہے۔
سامنے ایک اونچا سا پہاڑی ٹیلا تھا جس کے ایک جانب بھاری پتھروں کی تراشی ہوئی خستہ حال سیڑھیاں اوپر جاتی نظر آئیں زینوں پر جنگلی جڑی بوٹیاں حشرات الارض کی مانند رینگ رہی تھیں۔ میں ذرا سستانے کے لئے رکا مگر خواتین اوپر جانے کے لئے بے چین تھیں مجبوراً ہمیں بھی ان کا ساتھ دینا پڑا۔
جونہی آخری سیڑھی پر قدم رکھا ہم سب ٹھٹھک کر وہیں رک گئے۔
اوپر کا منظر کسی سہانے خواب کی مانند دکھائی دے رہا تھا۔ تین اطراف میں دریائے ہروؔ کا صاف و شفاف پانی بل کھاتا ہوا جا رہا تھا اور ہوا میں تیرتے ہوئے بگلے اور سیگل اچک اچک کر مچھلیا ں پکڑنے میں مگن تھے جبکہ ٹیلے کی چوتھی سمت سر سبزو شاداب پہاڑ آسمان سے باتیں کرتا دکھائی دیتا تھا اور بیچ میں دل کش بدھ اسٹوپ دیکھ کر یوں لگا جیسے ابھی ابھی کوئی اڑن طشتری ہوا میں اڑتی ہوئی اس چٹان پر آکر اتری ہے۔
جولیاؔ ابھی تک مبہوت کھڑی تھی۔ میں نے اسے ٹہوکا دیا ”کیا تم بھی حضر ت لوط ؑکی بیوی کی طرح پیچھے مڑ کر دیکھنے کی پاداش میں پتھر کی بن گئی ہو۔۔۔۔آگے بڑھو!! ایسے دلفریب مناظر تو ٹیکسلا میں جا بجا بکھرے ہوئے ہیں“۔اس نے آہستہ آہستہ سر گھماتے ہوئے میرے سمت یوں دیکھا جیسے میں نے آفاقی اور ابدی خاموشی میں کسی گستاخی کا ارتکاب کیا تھا۔
میں نے آگے بڑھ کر اسٹوپ سے متصل محکمہ آثار ِ قدیمہ کا ایستادہ تعارفی بورڈ باآواز بلند پڑھنا شروع کردیا۔
یہ خانقاہ چوتھی سے پانچویں صدی عیسوی تک آباد رہی تھی دفاعی نقطۂ نظر سے نہایت محفوظ مقام پر تعمیر عمل میں لائی گئی ۔ آبادی سے دور واقع ہونے کی وجہ سے حملہ آوروں کی آمد کی خبر بر وقت مل جاتی تھی اور امن پسند بھکشو پہاڑوں پر چڑھ کر روپوش ہو جاتے اور جب شہر میں دوبارہ سکون ہو جاتا تو لوگ بھی واپس لوٹ آتے یہ خانقاہ کشانؔ دور میں تعمیر کے مراحل سے گذری درمیان میں بڑا اسٹوپ ہے جسے انیس منتی اسٹوپوں کی کہکشان نے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے اسٹوپ کو صلیبی (Cruciform ) شکل کی اونچی کرسی پر بنایا گیا ہے باہر کی جانب لپکتی ہوئی سیڑھیاں پتھروں کے مضبوط جنگلے سمیت اس کے چاروں اطراف سے اوپر چڑھتی ہیں ان کے استقبالیہ پر کبھی مشرقی اور مغربی سمتوں میں شیروں کے جوڑے اور شمالی جنوبی طرف دو ، دو ہاتھی
ایستادہ تھے پتھر کے بنے ہوئے یہ خونخوار جانور اسٹوپ کی حفاظت پر تعینات ہوتے تھے۔ دیواریں بڑے بڑے پتھروں کو تراش کر بنائی گئی تھیں جن کے بیچ میں سنگ ریزے اور پتھروں کے شکل دار قتلے چونے کے مسالے میں مضبوطی سے پھنسے ہوئے تھے چورس کورنتھی ستون اور آرائشی کنگرے کنجور کے نرم پتھروں کو تراش خراش کر جوڑ دئیے گئے تھے ان پر چونے کی استر کاری کرکے برگ و پیچاں کو ابھارا گیا تھا یہ ستون اسٹوپ کے چاروں اضلاع کو برابر خانوں میں تقسیم کرتے تھے جن میں مہاتما گوتم بدھ کی زندگی کے مختلف ادوار کو مورتیوں کی شکل میں ابھارا گیا تھا۔چاروں کونوں میں شیر کے سروں والے دیوار گیر جڑے تھے۔ چورس کرسی کے اوپر گول ڈھچر تھا جس کے اردگرد بھی چونا گچ کے مجسمے بنے تھے۔ اسٹوپ کے اوپر بتدریج کم ہوتے ہوئے قطر کے مرصع چھترے آویزاں تھے جو کبھی دور سے کیا خوب نظارہ پیش کرتے ہوں گے۔
خطہء گندھارا میں اینٹ کا استعمال ٹیکسلا سے شروع ہوا سب سے پہلے سیتھی عہد ( پہلی صدی قبل مسیح) میں سرکپ میں فرشی اینٹیں متعارف ہوئیں اسی طرح بھمالا اسٹوپ کے صحن میں بھی پختہ مٹی اور شیشے کی اینٹوں کا فرش بچھایا گیا تھا مشرقی سمت میں دھرم چکر کی شکل میں اینٹین نصب تھیں جنہیں فولڈ پاتھ کی وضاحت کی غرض سے آٹھ برابر حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا جب کہ صدر دروازے کے شمالی جانب فرشی اینٹوں پر سواستیکا، کنول کے پھول، دائرے، پیپل کے پتے، صلیب اور ہم مرکز دائروں کی مختلف اشکال بنائی گئی تھیں۔
چوکور طرز کی خانقاہ پچیس کمروں پر مشتمل تھی بیچ میں وسیع برآمدہ اور کھلا صحن تھا جس کے وسط میں بڑا حوض اور ایک کونے میں غسل خانہ تعمیر کیا گیا تھا۔پچھلی جانب دیوان مجلس،باورچی خانہ اورطعام گاہ تھی۔ چھت بارہ فٹ اونچی تھی دوسری منزل پر بھی غالباً اتنے ہی کمرے تھے جن کی سیڑھیاں رسوئی سے اوپر جاتی تھیں کمروں میں روشندان اور طاقچے بھی تھے۔ دیواروں پر چونے گارے کی استر کاری کی گئی تھی برآمدوں کے ستون، چھت اور شہتیر تمام لکڑی کے تھے اس کے علاوہ دور تک نظر رکھنے کیلئے دو عدد ڈھول مینار بھی تعمیر کئے گئے تھے۔
یہاں سے کشان حکمرانوں بچا رانا، ہاوسکا، ویسودیوا اور ساسانی دور کے سونے، چاندی اور تانبے کے سکے برآمد ہوئے ہیں اس کے علاوہ سفید ہنوں کے سکے بھی ایک جلے ہوئے دروازے کے قریب پڑے ملے تھے جو یقینا ان کی سفاکانہ کاروائیوں کے چشم دید گواہ ہیں۔
ہمیں بتایا گیا کہ یہ علاقہ بندروں کی جنت کہلاتا ہے جو شام پڑتے ہی پہاڑوں سے نیچے اتر آتے ہیں اور بھمالا کے اسٹوپ پر بھی ان بھکشو بندروں کی آمدورفت سے رونق رہتی ہے
اسٹوپ کے جنوبی سمت میں واقع مستطیل نما کمرے سے حال ہی میں گوتم بدھ کا تقریبا” 46 فٹ لمبا کنجور کے پتھر کا مجسمہ دریافت ہوا ہے ۔مہاپری نروان (Death scene) طرز میں پہلو کے بل لیٹا یہ اپنی نوعیت کا لمبا اور قدیم ترین مجسمہ شمار ہوتا ہے مقامی بندر اکثر اس کے آس پاس آ جاتے ہیں ننھے بندر بےحس وحرکت لیٹے مہاتما بدھ کے کاندھوں پر سوار ہو جاتے ہیں کوئی ان کی ٹانگوں سے لپٹ جاتا ہے تو کوئی گود میں دبک جاتا ہے ۔ان سوگوار بندروں کے رویے سے ایسا تاثر ابھرتا ہے جیسے وہ ابھی تک مہاتما بدھ کی موت کے صدمے سے دوچار ہیں۔
وہاں موجود گائیڈ نے مزید بتایا کہ بالائی پہاڑ کے پہلو میں گیان دھیان کی منزلیں طے کرنے کے لئے ایک پرانی غار اب بھی موجود ہے جس میں اترنے کےلئے چٹان کو تراش کر زینہ بنایا گیا تھا۔
اسٹوپ کا مضافات بھی دیدہ زیب مناظر پر مشتمل تھا جدھر نگاہ اٹھتی اونچے اونچے پہاڑوں پر زیتون کے درخت دکھائی دیتے۔ٹاویں ٹاویں پیپل کے پیڑ بھی دعوتِ نظارہ دے رہے تھے سائبیریا سے آنے والے مہاجر پرندے Wood Pigeons & Green ) ( Pigeon بھی سردیاں گذارنے آچکے تھے کوے اور گلہریاں برگد اور سنبل کے پیڑوں پر آنکھ مچولی کھیلنے میں مگن تھیں۔پہاڑ کے دامن میں سرسوں کے سنہرے کھیت, چیری کے کھلے ہوئے پھولوں کی طرح سرسراتی ہوئی ہوا میں جھوم رہے تھے۔ رنگ برنگے پروں والی تتلیاں دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے بسنت میں پتنگوں کی بہار آگئی ہو۔ خود رو جنگلی پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو نے پورے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔الغرض فطرت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ کچھ ایسے جوبن پر تھی کہ جس کی ہوشربا مستی پر پورا جنگل رقص کر رہا تھا۔
جولیاؔ اسٹوپ کے ساتھ پشت ٹکائے یوگ آسن میں بیٹھی تھی وہ آنکھیں موندے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔ایمیؔ خانقاہ کی شکستہ دیوار پر ٹانگیں لٹکائے کوئی انگریزی دھن گنگنا رہی تھی اس کے پاؤں پنڈولیم کی مانند حرکت میں تھے اور انگلیاں بے خودی میں تھر تھر ا رہی تھیں۔
پہاڑوں کی اونچی اونچی چوٹیوں کی وجہ سے سورج جلد ہی نظروں سے اوجھل ہو گیا پرندے گھونسلوں کو پلٹ رہے تھے کوے اور بگلے بھی واپسی کے لئے اڑانیں بھر رہے تھے۔ اکا دکا گھروں سے دھواں بلند ہونے لگا تھا۔
ادھر جولیاؔ بضد تھی کہ رات وہیں بسر کی جائے وہ چاندنی رات کا بھر پور لطف لینا چاہتی تھی حبیبؔ نے آگاہ کیا کہ یہ علاقہ جنگلی سؤروں کی آماجگاہ ہے بھیڑئے بھی رات کو جتھوں کی شکل میں نکلتے ہیں اور بھیڑ بکریاں اٹھا لے جاتے ہیں۔ گیدڑ بھی مچھلیوں سے پیٹ بھرنے دریا کی جانب آ نکلتے ہیں یہ جنگلی درندے انسانوں پر حملہ آور تو نہیں ہوتے لیکن پھر بھی ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔
ان سب باتوں کا جولیا ؔ پر کچھ اثر نہ ہوا وہ تو زیادہ سے زیادہ وقت وہیں گذارنے کا پہلے سے ہی عزم کر چکی تھی۔
ہم نے اِدھر اُدھر سے لکڑیاں اکٹھی کیں تاکہ سردی سے بچنے کے لئے آگ کا بندوبست کیا جاسکے دیہاتیوں نے مکئی کے بھٹے لا دئیے اور دودھ بھی مہیا کر دیا ہم نے ٹھنڈ کا اثر کم کرنے کیلئے چائے تیار کی اس دوران چاند بھی پوری آب و تاب سے نمودار ہو گیا اور آس پاس چمگادڑیں منڈلانے لگیں ۔ اتنا روشن، منور اور مکمل چاند دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے یہاں قریب ہی کہیں چاند نگر ہے جہاں سے ابھی ابھی مہتاب چہل قدمی کرتا ہوا باہر نکل آیا ہے۔
میں نے جولیاؔ اور ایمیؔ سے پوچھا کہ کیا انہیں اس ویرانے میں ڈر نہیں محسوس ہوتا۔۔ اگر کوئی جنگلی جانور ہی انہیں اٹھا کر چلتا بنا تو پھر کیا ہو گا۔۔۔؟؟
ایمیؔ مسکراتے ہوئے کہنے لگی ”ہماراتعلق امریکی ریاست کیلیفورنیا کے مشہور شہر لاس اینجلس سے ہے یہ شاید Lost Angels کا مخفف ہے سنا ہے کہ کسی زمانے میں آسمان سے فرشتے اتر آئے تھے جو زمین کی بھول بھلیوں میں گم ہو گئے اسی مناسبت سے یہ ریاست لاس اینجلس کہلاتی ہے۔ اگر خدا نخواستہ ہم بھی ٹیکسلا میں کہیں بھٹک گئیں تو یہی سمجھا جائے گا کہ یہاں بھی کبھی دو فرشتے آئے تھے اور پھر ان کی کوئی خبر نہ ملی یوں بھمالا بھی ٹیکسلا کا لاس اینجلس مشہور ہو جائے گا“۔
جولیاؔ اور ایمیؔ نے زور زور سے ہنسنا شروع کر دیا۔
ہنستے ہنستے جولیاؔ ایک دم سنجیدہ ہوگئی اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں وہ ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہنے لگی
”کوئی میرے دل سے پوچھے۔۔ ٹیکسلاؔ تو لاس اینجلس سے بھی کئی درجے حسین ہے۔ حضرت عیسٰی ؑنے ہجرت کرتے وقت کہا تھا کہ اگر میں یروشلم کو بھول جاؤں تو میرا داہنا ہاتھ ہنر بھول جائے۔ یقینا میں بھی زندگی بھر ٹیکسلا کو بھلا نہ سکوں گی۔ جب بھی اپنے وطن میں طلوعِ مہتاب کا منظر دیکھوں گی تو مجھے یہ خطہ بہت یاد آئے گا اور میں مغرب کے رہنے والوں کو بتاؤں گی کہ یہ خوبصورت چاند ٹیکسلا کی مقدس سر زمین سے نکلتا ہے یہاں سے واپس جا کر میری حالت بھی ان فلسطینیوں کی طرح ہو گی جو بیت المقدس پر کلدانی بادشاہ بخت نصر کے قبضے(586 ق م) کے بعد قیدی بنا کر بابل (عراق) لائے گئے وہ اکثر اپنے وطن کو یاد کرکے روتے۔اس سانحے کی کسی نامعلوم شاعر نے کیا خوب تصویر کشی کی ہے ؛
By the waters of Babylon,
There we sat down and wept,
When we remembered Zion.

رات دیر تک ہم لوگ آگ کے اردگرد بیٹھے باتیں کرتے رہے حبیبؔ نے آتش ٹھنڈی نہ پڑنے دی وہ مسلسل لکڑیاں جھونکتا رہا ایمیؔ معصوم بچے کی طرح انگاروں کی پھلجھڑیاں بنا بنا کر ہوا میں اڑاتی رہی جولیاؔ گرم شال میں لپٹی حسبِ معمول کچھ لکھنے میں مشغول تھی جب سردی نے زور پکڑا تو ہم نیچے اتر آئے آثارِ قدیمہ کی دیکھ بھال پر مامور سرکاری چوکیدار کا گھر گاؤں کے شروع ہی میں تھا اس نے ہماری رہائش کا انتظام کر رکھا تھا۔ خواتین اندر زنانے میں چلی گئیں اور ہم برآمدے میں دھری چارپائیوں پر ڈھیر ہوگئے۔
نیند مجھ سے کوسوں دور تھی!!۔۔
یہ سوچ کر میرا سر ندامت سے جھکتا جا رہا تھا کہ بدیسی لوگ ٹیکسلا کی تاریخی اہمیت کے پیشِ نظر اس پر جان چھڑکتے ہیں مقالے لکھتے ہیں اور دنیا بھر میں اس پر تحقیقی کام کیا جا رہا ہے۔ ادھر ہم لوگ اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ ٹیکسلا کے ماحولیات کی حفاظت کرنے کی بجائے اس کا فطرتی حسن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں مقامی پہاڑوں پر جابجا سینکڑوں مشینیں نصب ہیں جو دن رات پتھر کاٹنے میں مصروفِ عمل ہیں۔جنگلوں کی حالتِ زار بھی خطرناک حد تک بگڑتی جارہی ہے درخت مسلسل کٹ رہے ہیں کوئی پرسانِ حال نہیں۔ پہاڑوں پر جنگلات اکثر آگ کی زد میں رہتے ہیں جنگلی حیات بھی متاثر ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ مضافاتی فیکٹریوں سے آنے والے زہریلے مادوں کے اخراج نے ندی نالوں کو آلودہ کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔
ان حالات میں یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ موجودہ زمانے کے یہ جدید سفید ہُن گندھارا تہذیب کے عظیم میٹروپولس ٹیکسلا کے فطرتی حسن کو تباہ و برباد کرنے میں ماضی کے ظالم حملہ آوروں کو بھی مات دے گئے ہیں۔ کیا آئندہ آنے والی نسلیں ہمیں ان دانستہ کوتاہیوں کے مرتکب ہونے پر کبھی معاف کریں گی؟؟
خدا جانے میں کب تک یونہی عالم خود فراموشی میں آنکھیں موندے رہتا کہ موذّن کی گونج دار آواز نے میرا تصوراتی طلسم توڑ دیا۔
ہمیشہ کی طرح ایک چمکیلی اور روشن صبح، دہلیز پر منتظر تھی اور تاروں بھری رات ایک خوبصورت اور جھلملاتے دھبوں والے پھرتیلے چیتے کی طرح گھنے جنگل میں کہیں روپوش ہو چکی تھی۔۔۔۔۔!!!

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close