بلاگتراجم شدہ بلاگز

جواہر لال نہرو کا اپنی بیٹی اندرا گاندھی کے نام دوسرا خط /عقیلہ منصور جدون

کتاب : دنیا کی تاریخ کی جھلکیاں / Glimoses of World History
نئے سال کا تحفہ
نئے سال کا دن ،1931
کیا تمھیں دو سال قبل میرے لکھے گئے خطوط یاد ہیں ۔تب تم میسوری میں تھیں ۔اور میں الہ آباد میں تھا ۔تب تم نے مجھے بتایا تھا کہ تمھیں وہ پسند آۓ تھے ،میں اکثر سوچتا رہتا ہوں ،کہ کیا مجھے اس سلسلے کو از سر نو شروع کرنا چاہیے اور تمھیں دنیا کے بارے میں مزید بتانا چاہیے ،لیکن میں ہچکچاتا رہا ۔دنیا کے ماضی کی کہانی ،عظیم مرد و خواتین کی کہانیاں اور اس ماضی میں موجود عظیم کارناموں کے بارے میں سوچنا بہت دلچسپ ہے ۔تاریخ کا مطالعہ اچھا ہے لیکن تاریخ بنانے میں مدد کرنا زیادہ دلچسپ اور مسحور کن ہے ۔تم جانتی ہو اس وقت ہمارے ملک کی تاریخ لکھی جا رہی ہے ۔انڈیا کا طویل ماضی قدامت کی دھند میں چھپا ہے ۔اس میں غمگین اور نا خوش گوار ادوار شامل ہیں ،جن کی وجہ سے ہم شرمندہ اور دُکھی ہو جاتے ہیں ،لیکن مجموعی طور پر اس کا ماضی شاندار ہے ۔جس پر ہمیں بجا طور پر فخر ہے ۔اور جس کے بارے میں سوچ کر ہمیں خوشی ہو تی ہے ۔تاہم آج ہمارے پاس ماضی کے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں ہے ۔آج ہماری سوچوں کا محور اس کا مستقبل ہے ۔مستقبل جسے ہم بنانے کے عمل میں ہیں اور حال جو ہماری سوچ اور توانائیوں کا مرکز ہے ۔
یہاں نینی جیل میں میرے پاس جو میں چاہوں پڑھنے اور لکھنے کا بہت وقت ہوتا ہے ،لیکن میرا دماغ بھٹکتا رہتا ہے اور میں جیل سے باہر جو عظیم جدو جہد جاری ہے ،اس کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں کہ باہر کیا ہو رہا ہے ۔اور اگر میں باہر والوں کے ساتھ ہوتا تو کیا کرتا ۔میرا زہن مستقبل اور حال کے بارے میں اتنا مصروف ہے کہ میں ماضی کے بارے میں سوچ نہیں سکتا ۔تاہم میں نے سوچا ہے کہ یہ غلط ہے ۔جب میں باہر کی جدو جہد میں حصہ نہیں لے سکتا ،تو مجھے پریشانی بھی نہیں ہونی چاہیے ۔
لیکن اصل وجہ ————— کیا میں تمھیں سرگوشی میں بتاؤں ؟ ۔ میرے لکھنے کو ٹالنا کچھ اور وجہ سے تھا ۔مجھے شک ہونے لگا ہے کہ کیا میں خود اتنا جانتا ہوں کہ تمھیں سکھا سکوں ؟۔تم تیزی سے بڑی ہو رہی ہو ۔اور اتنی زہین ہو کہ وہ سب کچھ جو میں نے سکول ،کالج اور بعد میں سیکھا ،شاید تمھارے لئے کافی نہ ہو اور ہو سکتا ہے وہ تمھارے لئیے فرسودہ ہو ۔ہو سکتا ہے کچھ عرصے بعد تم مجھے بہت سی باتیں سمجھانے کے قابل ہو جاؤ ۔جیسا کہ میں نے پچھلے خط میں لکھا تھا ،کہ میں اتنا عقلمند نہیں ہوں جتنا وہ شخص جو اپنی کمر کے ساتھ تانبے کی پلیٹیں باندھے رکھتا کہ وہ کہیں دانائی کے بوجھ سے پھٹ نہ جاۓ ۔
جب تم میسوری میں تھیں تو میرے لئے دنیا کے ابتدائی سالوں کے بارے میں لکھنا آسان تھا ۔ان قدیم ایام کے بارے میں ہماری معلومات مبہم اور غیر متعین ہیں لیکن جیسے جیسے ہم اس قدیم دور سے نکلے تاریخ آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگی ،انسان نے دنیا کے مختلف حصوں میں نئے نئے شعبوں میں دلچسپی لی ۔انسان کی یہ دلچسپی جو کبھی مبنی بر دانائی ہوتی اور کبھی انتہائی احمقانہ اور پاگل پن ہوتی ،اسے کھوجنا اور بیان کرنا آسان کام نہیں ہے ۔
کتابوں کی مدد سے کوشش کی جا سکتی ہے ،لیکن نینی جیل میں لائبریری نہیں ہے ۔اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ تمہیں دنیا کی مربوط تاریخ اس طرح جس طرح میں چاہتا ہوں نہ بتا سکوں ۔مجھے لڑکے اور لڑکیوں کا صرف ایک ملک کی تاریخ پڑھنا بلکل پسند نہیں اور وہ بھی صرف کچھ تاریخیں اور چند واقعات زبانی یاد کر لئے جاتے ہیں ۔جبکہ تاریخ ایک مربوط اکائی ہے ۔تم کسی ایک ملک کی تاریخ نہیں جان سکتیں جب تک آپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ دنیا کے باقی حصوں میں اس وقت کیا حالات تھے ۔مجھے امید ہے تم تاریخ کا مطالعہ اس تنگ نظری سے ایک یا دو ملکوں تک محدود کر کے نہیں کروگی ۔بلکہ پوری دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کرو گی ۔
ہمیشہ یاد رکھنا ،کہ مختلف ملکوں میں جتنا ہم سمجھتے ہیں اتنا فرق نہیں ہے ۔نقشے اور اٹلس میں مختلف ممالک مختلف رنگوں سے ظاہر کئے جاتے ہیں ۔بے شک لوگ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں لیکن وہ بہت حد تک ایک دوسرے سے مماثلت بھی رکھتے ہیں ،اور یہ زہن میں رکھنا بہت اہم ہے ۔چنانچہ نقشوں میں رنگوں کے اختلاف سے اور قومی سرحدوں سے بدگمان نہیں ہونا چاہیے ۔
میں تمھارے لیے اپنی مرضی کی تاریخ نہیں لکھ سکتا ۔تمھیں مزید کتابیں پڑھنی پڑیں گی ۔لیکن میں وقتا”فوقتا”تمھیں ماضی اور گزرے زمانوں کے لوگوں کے بارے بتاتا رہوں گا ۔اور یہ بھی کہ کس نے دنیا کے سٹیج پر عظیم کام کیا ۔
مجھے نہیں معلوم میرے خطوط تمھیں دلچسپ لگیں یا نہیں اور تمھارے تجسس کو ابھاریں گے یا نہیں ،مجھے نہیں معلوم تم انہیں کب پڑھو گی ،یا تم کبھی پڑھ بھی سکو گی یا نہیں ۔کتنی عجیب بات ہے کہ ہم اتنے نزدیک بھی ہیں اور اتنے دور بھی ۔میسوری میں تم مجھ سے کئی سو میل دوری پر تھیں ،لیکن پھر بھی میں تمھیں جتنی مرتبہ خواہش ہوتی لکھتا تھا اور ملنے دوڑا چلا جاتا تھا جب تمھیں دیکھنے کی خواہش ہوتی ۔اب ہم دریائے جمنا کے دونوں اطراف پر ہیں ،ایک دوسرے سے زیادہ دور نہیں ہیں ،لیکن نینی جیل کی دیواریں ہمیں دور رکھے ہوۓ ہیں ۔دو ہفتوں میں ایک خط لکھ سکتا ہوں اور ایک خط وصول کر سکتا ہوں ،اور دو ہفتوں میں بیس منٹ کی ایک ملاقات ۔یہ پابندیاں بھی اچھی ہی ہیں ۔جو چیز ہمیں آسانی سے مل جاۓ ۔ہم اس کی قدر نہیں کرتے ،اور میں اس پر یقین کرنے لگا ہوں کہ جیل میں گزارا ہوا وقت انسان کی تعلیم کا خاطر خواہ حصہ ہے ۔خوش قسمتی سے اس وقت ہمارے ملک کے سینکڑوں ہزاروں افراد اس تعلیمی عمل سے گزر رہے ہیں ۔میں کچھ کہ نہیں سکتا جب تمھیں یہ خطوط ملیں گے تو تمھیں پسند آئیں گے یا نہیں لیکن میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں یہ اپنی خوشی کے لئے لکھوں گا ۔ان کے زریعے میں تمھیں اپنے قریب محسوس کرتا ہوں ۔یوں لگتا ہے جیسے میں تم سے گفتگو کر رہا ہوں ۔میں اکثر تمھارے بارے میں سوچتا ہوں ۔لیکن آج تم کسی بھی لمحے میرے دل و دماغ سے نہیں اتری ۔آج نئے سال کا پہلا دن ہے ۔علی لا صبح بستر میں لیٹے ستاروں کو دیکھ رہا تھا ۔تو پچھلے عظیم سال کی امیدوں ،دکھوں اور تمام عظیم بہادری کے کارناموں کے بارے میں جو اس سال انجام پاۓ سوچتا رہا ۔اور میں باپو جی کے بارے میں جنہوں نے ہمارے بوڑھے ملک کو اپنے جادو سے جوان اور توانا بنا دیا ۔اور میں دادو (پنڈت موتی لال نہرو ) اور بہت سوں کے بارے میں سوچتا ہوں ۔لیکن بلخصوص تمھارے اور ممی کے بارے میں سوچا ۔خبر ملی کہ ممی بھی گرفتار ہو کر جیل چلی گئی ہیں ۔یہ خوشگوار خبر میرے لئے نئے سال کا تحفہ تھا۔کافی عرصے سے یہ متوقع تھا ۔مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ممی اس سے خوش اور مطمئن ہو گی ۔
لیکن تم اکیلی ہو گئی ہو ۔دو ہفتوں میں ایک دفعہ تم ممی کو اور دو ہفتوں میں ایک دفعہ تم مجھ سے مل سکو گی ،اور تم ہمارے پیغامات ایک دوسرے کو پہنچاؤ گی ۔
میں کاغز قلم لے کر بیٹھوں گا ،تمھارے بارے میں سوچوں گا ،اس طرح تم میرے پاس آ جاؤ گی ۔اور ہم بہت سارے موضوعات پر باتیں کریں گے ۔ماضی کے خواب دیکھیں گے اور مستقبل کو ماضی سے زیادہ شاندار بنانے کے طریقے ڈھونڈے گے ۔
تو اس نئے سال کے دن پر آؤ ہم عہد کریں کہ اس سال کے پرانے ہو کر ختم ہونے تک ہم اپنے روشن مستقبل کے خواب کو حال کے قریب تر لے آئیں گے ،اور انڈیا کے ماضی کو تاریخ کا روشن ورق بنا دیں گے ۔

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close