بلاگ

وائرل شائرل / عامر راہداری

پہلے یہ ہوتا تھا کہ مائیں اپنے سوئے ہوئے بیٹے کو دیکھ کر سوچا کرتی تھیں، “میرا بیٹا صبح اٹھے گا، سکول جائے گا، پھر کالج، یونیورسٹی جائے گا، ڈگریاں لے گا اور پھر کوئی ایسا کام کرکے دکھائے گا جس سے اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن ہوگا اور ساتھ ساتھ ماں باپ کی بھی عزت بڑھ جائے گی۔ آج کل ایسا نہیں ہوتا، آج کل مائیں اپنے سوئے ہوئے بیٹے کو دیکھ کر سوچتی ہیں، “بیٹا صبح اٹھے گا کوئی عجیب سی حرکت کرتے ہوئے ویڈیو بنائے گا اور وائرل ہو جائے گا اور پورے خاندان کا نام روشن کرے گا”۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل کامیاب ہونے کا فیشن چلا گیا ہے آج کل وائرل ہونا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔

اور ویسے بھی آج کل وائرل ہونے میں لگتا ہی کیا ہے، آپ ایک ہاتھ سے شلوار میں ناڑا ڈالنے کی ویڈیو پوسٹ کر دیں، صبح کسی مارننگ شو میں مہمان خصوصی ہوں گے۔ آپ ایک وقت میں پندرہ روٹیاں کھا لیں صبح کوئی نیوز چینل آپ کی رپورٹ بنانے آیا ہوگا۔ آپ کسی کا گرا ہوا پانچ ہزار کا نوٹ واپس کردیں صبح آپ کے نیوز ٹِکر چل رہے ہوں گے۔ آپ ہوٹل میں کسی غریب کو کھانا کھلا دیں دوسرے دن کسی ٹاک شو میں آپ لائیو کال پر موجود ہوں گے۔

یہ جو سوشل میڈیا ہے اس نے کامیابی کے معنی ہی بدل کر رکھ دئیے ہیں۔ مثلاً دیکھیں سوشل میڈیا کے حساب سے آپ نے بڑی عمر کی عورت سے شادی کر لی آپ وائرل، آپ بدتمیزی میں اعلیٰ مقام پہ موجود ہیں آپ کامیاب، آپ نے گھر کی چھت پہ بھینس چڑھا لی آپ سلیقہ شعار، آپ نے مونچھوں سے ٹریکٹر کھینچ لیا آپ مشہور، آپ نے بلی کے بچے کو ڈوبنے سے بچا لیا آپ معروف۔

میں مانتا ہوں سوشل میڈیا کی بدولت بہت سا ٹیلنٹ سامنے آیا ہے، لیکن بھئی یہ الٹی گنتی گن لینا کون سا ٹیلنٹ ہے؟ نتھنوں سے غبارہ پھلا لینا کس قسم کا ہنر ہے؟ سر سے اخروٹ توڑ لینا کونسی کامیابی ہے؟ آلو بخارا نگل لینا کون سی لیاقت ہے؟ چھری منہ میں ڈال لینا کونسا فن ہے؟ بجلی کے بلب کو کھا جانا کس قسم کی قابلیت ہے؟

چلیں باقی میڈیا پلیٹ فارم کچھ نہ کچھ تو قابل برداشت ٹیلنٹ سامنے لا رہے ہیں لیکن یہ ٹک ٹاک۔۔۔۔

ٹک ٹاک پر کامیابی کی ڈیفینیشن ہی الگ ہے یہاں آپ کوئی بھی ایسی حرکت کر لیں جو انسانوں کو زیب نہیں دیتی، دوسرے دن آپ آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے ہوں گے۔ یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں صرف چلنا بھی آپ کو وائرل کر سکتا ہے۔ یہاں آپ الٹا چل لیتے ہیں آپ ہیرو، آپ کندھے اچھے ہلا لیتے ہیں آپ سپر ہیرو، آپ جینز گھُٹنوں تک کرکے سڑکوں پر ڈانگیں بھر لیتے ہیں تو آپ سپرسٹار، آپ سگریٹ پیتے ہوئے منہ سے دائرے نکال لیتے ہیں تو آپ ڈوپر سٹار۔ اور تو اور یہاں ویڈیو کے لیے اچھا گانا اور اچھا فلٹر سلیکٹ کر لینا بھی ایک بہت بڑا ٹیلنٹ ہے۔ ٹک ٹاک کے باقی ٹیلنٹ دیکھے جائیں تو ان میں ، قد چھوٹا ہونا، قد لمبا ہونا، گانے پر اچھی لپسنگ کر لینا، پانی میں ڈبکی لگانا، پستول دکھانا، اچھے کپڑے پہننا بلکہ میں تو سمجھتا ہوں ٹک ٹاک پہ ہونا ہی ایک قسم کا ٹیلنٹ ہے۔ یہاں ہر بندہ ہی بلاوجہ وائرل ہوا پڑا ہے۔

میں آج سوچ رہا تھا کہ اگر پرانے لوگ آج کل کے دور میں ہوتے تو کن وجوہات پر وائرل ہوتے۔

مثلاً مرزا غالب آج کل کے دور میں ہوتے تو شاعری کی وجہ سے مشہور نہ ہوتے بلکہ ادھاری شراب پینے کے چکر میں ان پر کسی ڈیلر نے کیس کرایا ہونا تھا۔

علامہ اقبال کے وائرل ہونے کی وجہ یہ ہوتی کہ آئے روز ان کی نظمیں کاپی پیسٹ نکل آنی تھی اور وہ بدنام ہوا ہونا تھا۔

سلیم شیخو اکبر اعظم کا بیٹا ہونے کی وجہ سے مشہور نہ ہوتا بلکہ اس کی مشہوری کی وجہ یہ ہوتی کہ وہ نوکرانی کے ساتھ ریپ کیس میں پکڑا ہونا تھا۔

منٹو کے وائرل ہونے کی وجہ یہ ہوتی کہ آئے روز ایف آئی اے نے انہیں فحاشی پھیلانے کے الزام میں پکڑا ہونا تھا۔

جون ایلیا کی وجہ شہرت یہ نہ ہوتی کہ وہ شاعری اچھی کرتا ہے بلکہ اس کے وائرل ہونے کی وجہ یہ ہوتی کہ وہ ٹک ٹاک پر سٹائل اچھے مارتا ہے۔

فیض احمد فیض کو لوگ اس لیے نہ جانتے ہوتے کہ وہ عظیم شاعر ہے بلکہ وہ ویگو ڈالے والوں کی وجہ سے مشہور ہو چکے ہوتے۔

اور ہمارے دلعزیز لیڈر قائد اعظم کی وجہ شہرت پاکستان بنانا نہ ہوتی بلکہ ان کی وجہ شہرت یہ ہونی تھی کہ انہوں نے مسلمان ہوتے ہوئے ایک پارسی لڑکی سے شادی کر لی۔

 

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close