بلاگ

کیا تم ٹیکسلاسے آئے ہو؟ / انجینئر مالک اشتر

مفاخرؔ میرا لنگوٹیا تھا۔ہم دونوں کا بچپن مکئی کے سنہرے کھیتوں میں بھُٹے توڑتے اور سر سبز و شاداب با غوں میں مالٹے کھاتے گذرا تھا سارا سارا دن نیکریں پہنے گلیوں میں کنکوّے لوٹتے یا چلچلاتی دھوپ میں بائی سائیکلوں پر گھوما کرتے۔ سیانے ہوئے تو کوہ پیمائی کا شوق در آیا اور ٹیکسلا کے قرب و جوار میں پھیلے ہوئے تمام پہاڑی سلسلوں کو سر کیا حتیٰ کہ مشہور پہاڑ ”کے ٹو“ کے نشیبی علاقے بھی ہماری پہنچ سے دور نہ رہ سکے۔

مفاخرؔ سے دوستی کی ایک اہم وجہ اور بھی تھی دراصل ہم دونوں پر جنون کی حد تک انگریزی بولنے کا بھوت سوار تھا جب غیر ملکی سیاح آثارِ قدیمہ دیکھنے ٹیکسلا آتے تو ہم بھی مختلف حیلے بہانوں سے ان کے قریب ہونے کی کوشش کرتے اور یوں ٹوٹی پھوٹی انگریزی بول کر اپنے آپ کو نیم انگریز سمجھتے ۔سیاح عموماً عجائب گھر کی عمارت سے چند گز دور واقع ”یوتھ ہوسٹل“ میں آ کر ٹھہرتے تھے اور ہم نے اس کا حل بھی تلاش کر رکھا تھا۔ بابا امام دینؔ ہوسٹل کا نگران تھا اور وہ لکھنے پڑھنے سے تقریباً نا بلد تھا ہم نے اس سے راہ و رسم بڑھا رکھی تھی چنانچہ جب کسی گورے صاحب یا خوبصورت میم کی آمد کی اطلاع ملتی تو ہم بھی فوراً وہاں پہنچ جاتے مترجم کے فرائض انجام دیتے ان کے کوائف رجسٹر میں درج کرتے ضروری معلومات فراہم کی جاتیں۔انگریز ہمیں امام دینؔ کی فیملی کا ہی فرد سمجھتے اور اس طرح ہم جلد ہی ایک دوسرے سے گھل مل جاتے۔
ایک روز جب میں کالج سے واپس لوٹا تو مفاخرؔ کو بے چینی سے اپنا منتظر پایا میں سمجھ گیا کہ آج پھر کسی بدیسی گورے یا گوری نے آ کر اس کی نیند حرام کر دی تھی۔ میرا اندازہ درست ثابت ہوا مفاخرؔ نے ایک اسکاٹ جوڑے کے آنے کی خبر سنائی ہم دونوں فوراً ہی ”یوتھ ہوسٹل“ پہنچے اور وسیع و عریض لان میں بے چینی سے ان کی آمد کا انتظار کرنے لگے۔
نوجوان کا نام ولیم جانؔ تھا اور دبلی پتلی سی لڑکی ہیلنؔ تھی دونوں اسکاٹ لینڈ کی کسی یونیورسٹی میں تاریخ کے طالب علم تھے وہ سنسکرت زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ گندھارؔا تہذیب پر تحقیق کی غرض سے ٹیکسلا آئے تھے۔
جلد ہی ہماری ملاقاتیں دوستی میں تبدیل ہوگئیں۔وہ سارا سارا دن گردونواح میں پھیلے آثارِ قدیمہ کی خاک چھانتے اور شام کو ان سے ہماری مڈ بھیڑ ہوسٹل میں ہوتی انہیں تاریخ پر خاصی دسترس حاصل تھی خصوصاً جب وہ ٹیکسلا کے شاندار ماضی کے پوشیدہ گوشوں سے پردہ اٹھاتے تو ہم حیرت سے ان کا منہ تکتے رہ جاتے۔
ایک روز جب میں نے جانؔ کو ٹیکسالوجسٹ کہہ کر چھیڑا تو اس کے من کے تار بجنے لگے وہ ترنگ میں آ کر کہنے لگا ”ٹیکسلا۔۔۔ عہدِ قدیم کا ایک انمول اور قیمتی ہیرا تھا اس کی علمی اور تہذیبی چمک دمک دور دور تک پھیلی ہوئی تھی یہ اپنے زمانے کی ایک ترقی یافتہ تہذیب تھی یہاں فاتح عالم آئے نام ور حکمرانوں نے اپنے اقتدار کا سکّہ بٹھایا۔شاہی سر پرستی میں یونیورسٹیاں قائم ہوئیں اور فارغ التحصیل طلباء نے دنیا کے کونے کونے میں علم کی شمعیں جلائیں۔۔۔“ جانؔ نے زور دیتے ہوئے کہا ” یہاں پڑھائے جانے والے نصاب میں قانون، جغرافیہ، فلسفہ، تقویم، ریاضی، اتہاس، سیاست، فنون لطیفہ، طب، مذاہب، فلکیات، حرب، جراحی، کھیل، عطرکشی، شراب کشید کرنا، سنگ تراشی، فن تعمیر، سکہ سازی اور ملمع سازی کے علاوہ دیگر کئی علوم شامل تھے یقین مانیے آج کے جدید دور کی ہارورڈ اور آکسفورڈ یونیورسٹیاں، قدیم ٹیکسلا کی درس گاہوں کا عشرِ عشیر بھی نہیں ہیں بلکہ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ مغرب کو ان کی جدید یونیورسٹیوں کے قیام کا تصور مشرق سے ہی ملا تھا کیوں کہ جس وقت یہاں علم و دانش کا طوطی بولتا تھا اس وقت یورپ پر جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے“۔
ہمیں متجسس دیکھ کر ہیلن ؔ کہنے لگی ”اس میں کوئی شک نہیں کہ گندھارا کی راجدھانی ٹیکسلا ؔکی شہرت کا ڈنکا کبھی سارے جہان میں بجتا تھا یہاں ایک ہزار سال تک چھوٹی بڑی کئی درس گاہیں کسی نہ کسی صورت میں موجود رہیں اس مادرِ علمی کی باز گشت ارستوؔ کی اکیڈمی میں بھی سنائی دیتی تھی جب چوتھی صدی قبل مسیح میں سکندر اعظم ٹیکسلا آیا تو اس نے یہاں کئی روز تک قیام کیا اور اپنی فتح کا جشن منایا۔ حضرت عیسیٰ ؑنے بھی اپنے ایک حواری سینٹ تھامسؔ کو یہاں تبلیغ کیلئے بھیجا تھا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سر زمین فلسطین کے بعد ٹیکسلا ہی ایک ایسا خطہ تھا جہاں سب سے پہلے عیسائیت نے اپنے قدم جمائے۔ تیسری صدی ق م میں مشہور قواعد دان پانینی یہاں تعلیم دیتا تھا اس نے سنسکرت کی صرف و نحو ترتیب دی تھی۔چندر گپت موریہ نے بھی یہاں تعلیم حاصل کی مگدھ(موجودہ صوبہ بہار) کے بادشاہ بمبی سار اور اس کا شاہی طبیب اور جراح جیوک کمار بھرتی سات سال تک یہاں زیر تعلیم رہے اس نے مہاتما بدھ کا علاج معالجہ بھی کیا تھا۔مہاتما بدھ کا ایک اور ہم عصر کوشالا(اودھ) کا بادشاہ پرسین اجیت بھی اسی دارالعلوم سے فارغ التحصیل تھا۔ اپالونیسؔ والئی ٹیانا اپنے معتمدِ خاص ڈیمسؔ کے ہمراہ یہاں مطالعہ کرنے آیا تھا۔ اس مردم خیز خطے نے دنیا کو کئی سائنسدان، طبیب، فلاسفر اور فنکار دئیے۔کوتلیہؔ چانکیہ جیسا شاطر سیاستدان اور معلم یہاں پیدا ہوا وہ ہندو فلسفے کی شہرہ آفاق کتاب ارتھ شاستر کا مصنف تھا ٹیکسلا کے نام ور سپوت دیاس جی نے ’مہابھارت‘ جیسی رزمیہ نظم سے دنیا کو متعارف کرایا۔ ماہر امراضِ چشم اور فلسفی آشوا گھوش ؔجو کہ موریہ خاندان سے وابستہ تھا اس نے بھی یہیں تعلیم حاصل کی اس کے علاوہ اپنشد کا راوی اوالیکا اؔردنی، یوگ شاسترؔ کا مصنف تپنجلی رؔشی، مہاراجہ کنشک کا ذاتی معالج اور چرک شاستر کا مصنف چرکؔ، بکر ماجیتؔ کا جراح دھونتریؔ، مشہور طبیب آترساؔ اور شہرہ آفاق جینی عالم مال دیو سورؔتی وغیرہ ٹیکسلا کے ہی فارغ التحصیل تھے۔بدھ مذہب کے مشہور عالم نگرجوناؔ، اسنگاؔ، ویسو باندھوؔ اور پدما سم بھاؔوا اسی خطے سے تعلق رکھتے تھے۔ آخرالذکر کو تبتؔ میں بدھ ازم پھیلانے کا اعزاز بھی حاصل ہے اس نے لہاسا میں پہلی خانقاہ بھی تعمیر کی۔ کوریا میں بدھ ازم کے بانی میرائتھا کی پیدائش بھی گندھارا کی سرزمین میں ہوئی تھی۔ سگمنڈ فرائڈ نے بیسوی صدی عیسوی میں شعور کی جن مختلف اقسام پر بحث کی ہے اسنگا (395-470 ء) اور ویسو باندھو (400-480ء) یہ نظریات صدیوں پہلے پیش کر چکے تھے۔ نالندہؔ، سرناتھؔ اور ارجنٹاؔ کی یونیورسٹیوں کی بنیادیں رکھنے والوں میں ٹیکسلا کی درس گاہوں کے فاضل شامل تھے۔ اس کے علاوہ خروشتی رسم الخط کا وجود بھی ٹیکسلا ہی کا مرہونِ منت ہے یہاں متعدد نئی صنعتیں وجود میں آئیں۔ گندھارا کے دبستان ِ فن کی ایجادات کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ اس کا اجمالی جائزہ لینا قطعاً ناممکن ہے“۔
ہیلنؔ کے خاموش ہوتے ہی جانؔ نے جونہی کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا ہم مرغِ بار نما کی طرح اس کی جانب گھوم گئے وہ بولا۔۔۔!!
”چونکہ ٹیکسلا تجارتی راستوں کے چوراہے پر واقع تھا یہاں سے بدھ مت چین، کوریا، جاپان، انڈونیشیا، منگولیا اور مشرقِ بعید کے ممالک تک پھیل گیا۔ آج بھی ان ملکوں کے ادب اور لوک کہانیوں میں ٹیکسلا کا ذکر ملتا ہے خصوصاً تھائی لینڈ وغیرہ میں عالم فاضل شخص کو ”ٹیکسلا پلٹ“ کہا جاتا ہے“۔
میں اور مفاخر”ٹک ٹک دیدم،دم نہ کشیدم“ کی تصویر بنے بیٹھے تھے اس سے پیشتر ہمیں خطہ گندھارا اور خصوصاً ٹیکسلا سے متعلق اس قدر گرں بہا معلومات حاصل نہیں ہوئی تھیں۔ بالاآخر ہمیں جانؔ اور ہیلنؔ کی قابلیت کا اعتراف کرنا ہی پڑا۔ ہم نے ان کی معیت میں جولیاں یونیورسٹی دیکھنے کا پروگرام بنایا اور اگلے ہی روز موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر وہاں پہنچ گئے۔
جولیاں ؔ کی قدیم یونیورسٹی ٹیکسلا سے چند کوس دور ایک پہاڑی کی چوٹی پر واقع تھی اسکے چاروں طرف جنگلی زیتون کے درختوں کا گھنا جنگل ہے دور سے یہ منظر مشہور فلسطینی پہاڑ کوہِ زیتون سے مشابہ نظر آتا ہے سطح زمین سے اس کی بلندی لگ بھگ 300فٹ ہے جب اوپر سے زیریں جانب طائرانہ نگاہ ڈالیں تو ابھری ہوئی چٹانوں کے مخروطی ابھار دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے سمندر کی گرم اور سنہری ریت پر نوجوان دوشیزائیں چت لیٹی غسلِ آفتابی کے مزے لوٹ رہی ہوں ان چٹانوں کے پہلو سے پانی کی ایک نہر رواں ہے جس کے شفاف پانی میں افق سے اترتی دودھیا روشنی کی آمیزش سے ماحول کا حقیقی حسن دوچند ہو جاتا ہے۔
گائیڈ بتا رہا تھا:۔
”جولیاں کا نام ‘جائے ولیاں’ سے وجود میں آیا ہے جس کا مطلب ہے”ولیوؤں یا بھکشوؤں کی پناہ گاہ“ ۔ولیم جانؔ نے معنی خیز نظروں سے ہیلنؔ کی جانب دیکھا اورمسکراتے ہوئے کہنے لگا ”میں تو یہ سمجھا تھا کہ شاید رومیوؔ کی جیو لیٹؔ یہاں رہتی تھی جس کی وجہ سے اس جگہ کا نام ‘جولیاں’ پڑ گیا ہے“۔
جانؔ کا مزاحیہ جملہ گائیڈ کے سر سے گذر گیا اور وہ برابر رٹے رٹائے جملے بولتا جا رہا تھا
”طالب علم بھکشو یہاں کثیر تعداد میں آتے اور مقامی گروؤں سے کسبِ فیض کرتے یہ جگہ چاروں جانب سے پہاڑوں میں گھری ہوئی تھی اور بیرونی حملہ آوروں کی زد سے محفوظ تصور کی جاتی تھی درس گاہ کے کمرے بڑے اسٹوپ کے سامنے تعمیر کیے گئے تھے جس کے چاروں طرف مہا تما گوتم بدھ کے لا تعداد مجسمے بنائے گئے تھے جو شہزادہ سدھارتھ کے بچپن سے لے کرنروان حاصل کرنے تک مختلف مناظر پیش کر رہے تھے جب کہ منتی اسٹوپوں کے ساتھ سہ قوسی ڈاٹ کے اندر مہاتما بدھ کے نشستی مجسمے تھے اور نچلے درجوں میں ہاتھی اور شیروں کے مجسموں کو کورنتھی نیم ستونوں کے درمیان تقسیم کیا گیا تھے گائیڈ نے بطور ِ خاص مہاتما بدھ کا ایک خوبصورت مجسمہ بھی د کھایا جس کے پیٹ میں انگشت ِ شہادت داخل کرکے جو دعا بھی مانگی جائے وہ قبولیت کی سند پاتی تھی۔
جانؔ نے بھی یہ عمل دھرایا اور منہ ہی منہ میں کچھ بُڑ بُڑا کرمحبت بھرے انداز میں ہیلن کا ہاتھ تھام لیا وہ ہماری تندوتیز نظروں کا سامنا نہ کر پائی اورر شرماتے لجاتے آگے بڑھ گئی۔ جانؔ نے بھی ڈھٹائی سے ہنسنا شروع کر دیا۔ ادھر میں سوچ رہا تھا کہ مشرق ہو یا مغرب صنفِ نازک کی عشوہ طرازیاں اور غمزہ و ادا یکساں ہوتی ہیں۔
درس گاہ سے ملحق طلباء کی رہائش کیلئے جدید خطوط پر استوار ایک پر فضا خانقاہ تھی جس کے چاروں طرف اندر کے رخ پر متعدد کمرے تھے ۔ دو منزلوں پر مشتمل یہ خانقاہ بڑے بڑے پتھروں کو تراش کر تعمیر کی گئی تھی ہر کمرے میں ہوا دان اور طاقچے موجود تھے کمروں کے سامنے لکڑی کے مضبوط ستونوں پر شہتیر جوڑ کر برآمدہ بنا دیا گیا تھا۔ چوکو ر صحن کے وسط میں پانی کا دو فٹ گہرا حوض تھا جو بارش کے پانی کی نکاسی اور بھکشوؤں کے نہانے دھونے کے کام آتا تھا کیچڑمیں پاکیزگی کی علامت کے طور پر کبھی ان تالابوں میں کنول کے پھول اگائے جاتے تھے صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی بدھسٹ ممالک میں یہ رسم جوں کی توں برقرار ہے۔ ایک کونے میں غسل خانہ تھا خانقاہ کی دیواروں پر اور خصوصاً ڈیوڑھی کے سامنے جا بجا مہاتما گوتم بدھ کے مجسمے ایستادہ تھے۔خانقاہ سے باہر نکلتے ہی باورچی خانہ، طعام گاہ، برتن مانجھنے کا کمرہ، منتظم کا کمرہ اور ایک بہت وسیع مجلس گاہ تھی جس کی چھت کو بڑے بڑے ستونوں نے سہار رکھا تھا یہاں طلباء کے تعلیمی اجلاس منعقد ہوتے تھے۔ برتنوں والے کمرے سے باہر جانے کا راستہ تھا یہاں سے ایک پگڈنڈی دور پہاڑوں کی جانب نکل جاتی تھی آج بھی وہاں عہدِ قدیم کا ایک کنواں مضافات میں رہنے والوں کیلئے شفاف اور ٹھنڈے پانی سے لبریز جامِ صحت تجویز کررہا ہے۔
گائیڈ نے ہمین چند ایسے خاکستر مقامات بھی دکھائے جو ماضی میں سفید ہنوں ؔ کے ہاتھوں پھیلائی ہوئی تباہی و بربادی کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ پانچویں صدی عیسوی میں سورج پرست قوم نے ان مراکز کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی تھی اور تشنگان ِ علم کو زندہ جلا دیا تھا۔
یہ دسمبر کا مہینہ تھا چونکہ سردیوں کے موسم میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں شاید یہی وجہ تھی کہ سورج ڈوبنے کا احساس تک نہ ہوا۔ یخ بستہ ہوائیں بھی چلنا شروع ہو گئی تھی رفتہ رفتہ سردی کی شدت میں اضانہ ہو رہا تھا ہم جلدی جلدی پہاڑی سے نیچے اترے جولیاں میں سیاحوں کی آمدورفت کی وجہ سے کئی ریستوران بھی کھل چُکے ہیں ہمیں بھی شدت سے گرما گرم چائے کی طلب محسوس ہورہی تھی۔ ایک صاف ستھرا ہوٹل دیکھ کر ہم اس میں گھس گئے اور سردی کا زور کم کرنے کی خاطر آگ کے چولہے کےاردگرد ہی کھڑے ہو کر چائے نوش کی۔ جانؔ اور ہیلنؔ نے مل کر ایک گانا گایا اور بیلے ڈانس کیا۔ مفاخرؔ نے دھمال ڈالی وہاں پر موجود لوگوں نے تالیاں اور سیٹیا ں بجا کر ساتھ دیا۔ یو ں ہنستے کھیلتے ہم شام گئے ٹیکسلا واپس لوٹ آئے۔
راستے میں ہیلنؔ کو ٹھنڈ لگ گئی تھی چھینک چھینک کر اس کا برا حال تھا جانؔ کوئلے دہکانے لگا میں اور مفاخرؔ بھی سردی سے ٹھٹھر رہے تھے ہم نے موٹر سائیکل اسٹارٹ کئے اور گھر روانہ ہوگئے۔
نہ جانے کیوں میں رات ٹھیک طرح سو نہ سکا جب ذرا ٓآنکھ لگتی تو ڈراؤنے خواب نظر آتے اور ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھتا تمام رات پریشانی کے عالم میں گذر گئی۔۔۔۔
اگلے روز جب میں اور مفاخرؔ ”یوتھ ہوسٹل“ پہنچے تو خلافِ معمول وہاں پولیس والوں کی بھاگ دوڑ نظر آئی لوگوں کی بھیڑ بھی لگی تھی۔ میرا ماتھا ٹھنکا !! ضرور کوئی گڑ بڑ تھی پوچھ گچھ پر پتہ چلا کہ گذشتہ رات مسٹر جانؔ اور مِس ہیلنؔ کی موت واقع ہو گئی تھی انہوں نے سردی سے بچنے کیلئے کوئلے کی انگیٹھی دھکائی تھی اور کھڑکیاں دروازے بند کرکے سور رہے تھے جو ایک آدھ روشن دان کھلا تھا وہ بھی کہیں ہوا کے جھونکے سے بند ہو گیا ، کمرے میں گیس بھر گئی اور وہ دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے۔
مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا ان کی معصوم اور بھولی بھالی صورتیں میری نظروں کے سامنے گھوم رہی تھیں۔ میں لوگوں کو پیچھے دھکیلتا ہوا آگے بڑھا۔ لاشیں سفید چادروں میں ڈھکی ہوئی تھیں میں نے باری باری دونوں کے چہرے دیکھے فرطِ غم سے میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔مجھے یوں لگا جیسے ایک بار پھر سفید ھنوں نے ٹیکسلا کے علمی مراکز کو تہس نہس کر ڈالا تھا اور علم کے پیاسے دو بھکشوؤں کی جان لے لی تھی۔
مفاخر بھی غم سے نڈھال تھا بھرائی ہوئی آواز میں کہنے لگا ؛
“شاید انہوں نے کل جولیاں میں شفا بخش بدھ کے مجسمے کے سامنے ایک ساتھ جینے اور مرنے کی قسم کھائی تھی اور ان کی دعا قبول ہو گئی ”
پوسٹ مارٹم کے بعد جانؔ اور ہیلنؔ کے جسدِ خاکی، تابوت میں بند کرکے ان کے آبائی وطن اسکاٹ لینڈ روانہ کر دئیے گئے۔مقامی پولیس نے کچھ روز ہم دونوں کو شاملِ تفتیش رکھا۔کاروائی مکمل ہونے کے بعد کیس داخل دفتر کر دیا گیا۔ کئی دنوں تک مفاخرؔ اور میں سکتے کے عالم میں رہے ہمارا ہوسٹل آنا جانا کم ہو گیا اور غیر ملکی سیاحوں سے میل جول بھی باقی نہ رہا یوں رفتہ رفتہ دن گذرتے گئے اور بات آئی گئی ہو گئی۔
کالج سے فراغت پاتے ہی مفاخرؔ نے ایک مقامی ادارے کی ملازمت اختیار کرلی۔ مجھے فلپائنؔ کی انجینئرنگ یونیورسٹی کی جانب سے اسکالر شپ کی پیش کش ہوئی اور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے منیلا ؔچلا آیا۔
یہ شروع کے دنوں کی بات ہے میں اپنے بدھسٹ تھائی دوست کے ہمراہ فلپائینی خاندان کے ہاں مدعو تھا مختلف موضوعات پر گپ شپ ہو رہی تھی باتوں باتوں میں میری کسی دلیل کی صحت کو مشکوک سمجھ کر میزبان بزرگ، ایک مقامی کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے طنزاً کہنے لگے ”برخوردار ! تم یہ بات اتنے وثوق سے کیسے کہہ سکتے ہو۔۔۔کیا تم ”ٹیکسلاؔ“ سے آئے ہو“۔
میں نے سینہ پھُلا کر کہا ”جی ہاں۔۔۔ بندۂ ِناچیز کا تعلق ٹیکسلاؔ سے ہی ہے“ یہ سنتے ہی وہ ٹھٹھک کر رہ گئے انہوں نے میری بات کی دوبارہ تصدیق کی اور اٹھ کر ماتھا چوم لیا تھائی نوجوان کی آنکھیں بھی حیرت سے پھیل گئیں اس نے گرم جوشی سے مجھے اپنے سینے سے لگا لیا وہاں موجود باقی خواتین بھی میری طرف دیکھ کر آپس میں چہ مگوئیاں کرنے لگیں ۔اس روز مجھے جانؔ اور ہیلنؔ بہت یاد آئے انہوں نے بہت پہلے سے ہی مشرقِ بعید کے ممالک میں ٹیکسلا کی عظمت کے متعلق آگاہ کر دیا تھا۔
فلپائن میں میرا قیام زندگی کا ایک خوش گوار تجربہ ثابت ہوا۔وہاں مجھے ٹیکسلا کے غیر سرکاری دانشور کی حیثیت حاصل رہی۔تحصیل تعلیم سے فراغت پاتے ہی میں اپنے ملک واپس لوٹ آیا۔ آج مقامی لوگ مجھے فلپائن پلٹ کے طور پر پہچانتے ہیں مگر میرے دل میں یہ خواہش حسرت بن کر مچلتی رہتی ہے کہ کاش کوئی چپکے سے میرے کانوں میں کہے ؛ ”کیا تم ٹیکسلا سے آئے ہو !!“۔۔۔

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close