منتخب کالم

میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا/سعدیہ قریشی

سعدیہ قریشی

خبر ہے کہ جیکب آباد سندھ میں موجود تھیلسیمیا کے مریضوں کے قائم تھیلسیمیا سنٹر بند کر دیا گیا اور اسے بند ہوئے چھ ماہ ہو چکے ہیں اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اس سنٹر کو چلانے کے لئے حکومت سندھ کے پاس فنڈز موجود نہیں ہیں۔ سیاسی ہنگام کی خبروں اور وزیر اعظم کے فاتحانہ بیانات کے ہجوم میں بظاہر ایک عام سی خبر ہے جو کسی قسم کی سنسنی پیدا نہیں کرتی۔ کسی ٹاک شو کا موضوع نہیں بنتی۔ اس خبر میں بظاہر تو ایسی کوئی بات نہیں کہ اس پر تبصرہ کیا جائے ظاہر ہے جیکب آباد شہر میں قائم تھیلسیمیا سنٹر جن مریض بچوں کو خون کی سپلائی فراہم کرتا ہو گا وہ سب کے سب عام پاکستانیوں کے بچے ہیں۔ عام طبقے سے تعلق رکھنے والے جن کے احتجاج پریشانیاں اور خدشات کبھی ریکارڈ پر نہیں آئے۔ جو برسوں سے حالات کے جبر کے تلے مر مر کے جیئے جانے کا ہنر سیکھ چکے ہیں۔جنہیں سندھ میں تاریخ کے بے حس ترین حکمرانوں سے پالا پڑا ہے۔ جو بیانات اور پریس کانفرنسوں میں جھوٹ کے مائونٹ ایورسٹ کھڑے کر دیتے یں۔ لیکن حقیقی دنیا میں کارکردگی کے نام پر سوائے بددیانتی‘ جھوٹ اور کرپشن کے کچھ نہیں نکلتا۔

تھیلسیمیا کے مریض خون کی ایک لاعلاج بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں‘ بیماری کی پیچیدگیاں زندگی کی ہری بھری شاخ کھانے لگتی ہیں جسم کی رگوں میں دوڑتا ہوا لہو سرد پڑنے لگتا ہے سانس سانس تکلیف بڑھتی ہے اور موت جسم کے دروازے پر دستک دینے لگتی ہے، ایسے میں انتقال خون ان مریضوں کے لئے زندگی کا پیغام ثابت ہوتا ہے۔ انتقال خون پوری احتیاطی تدابیر کے ساتھ بروقت لگوانا ہی دراصل ان کا علاج ہے۔ تھیلسیمیا کے مریض بچوں کے والدین بھی زندگی اور موت کی اس چھپن چھپائی میں اپنی روح ہر تکلیف سہتے ہیں۔ غریب تہی کیسہ والدین بھی دور دراز سے اپنے ایسے بیمار جگر گوشوں کو لے کر قریبی تھیلسیمیا سنٹر پہنچتے ہیں تاکہ اپنے بچوں کے لئے تھوڑی سی زندگی اور ادھار مانگ سکیں۔

میں ایسے والدین سے ملی ہوں‘تھیلسیمیا کا شکار بچوں کے ساتھ گزرا ہوا وہ وقت مجھے یاد ہے سندس فائونڈیشن نے مجھے انوائٹ کیا تھا، اس روز میں ایسے کتنے ہی مریض بچوں اور مریض نوجوانوں سے ملی جن کی زندگی ہر ماہ موت کے ساتھ چھپن چھپائی کھیلتی ہے تھ۔یلسیمیا مریضوں کو انتقال خون کی ضرورت ہر ماہ پڑتی ہے یہ ایک ایمرجنسی صورت حال ہوتی ے بروقت خون نہ لگنے سے خدانخواستہ زندگی ہار بھی سکتی ہے۔تھیلسیمیا کے مریض موت اور زندگی کے جھٹپٹے میں جیتے ہیں میں تو حیران ہوں کہ ایسے مریضوں کے ساتھ سندھ حکومت نے اتنا ظالمانہ سلوک کیا ،بے حسی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو گی؟۔ خبر کے مطابق جیکب آباد تھیلسیمیا سنٹر سے کم و بیش پانچ سو مریض ہر ماہ زندگی کا ادھار لیتے تھے، ہر ماہ پانچ سو مریض انتقال خون کروا کر زندگی کے بجھتے ہوئے چراغ کی لو کو بحال کرتے تھے۔ یہ سنٹر اتنا بنیادی تھا کہ یہاں بلوچستان سے بھی تھیلسیمیا کے مریض بھی آیا کرتے تھے۔ سانحہ نہیں تو اور کیا ہے کہ بجائے اس کے کہ ہم صحت کے نئے سنٹر اور نئے ہسپتال بننے کی خبریں سنتے ۔ یہاں ترقی معکوس اور بدحالی کی خبریں آ رہی ہیں اور اس صوبے پر مسلسل بارہ سال سے حکمرانی کرنے والے نسل درنسل حکمران بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

پی ڈی ایم کے جلسوں میں جب ہم بلاول بھٹو زرداری کو موجودہ حکمرانوں کی نااہلی پر گرجتے برستے دیکھتے ہیں تو خیال آتا ہے کہ کوئی ان کو سندھ کے حالات کی بھی خبر دیتا کہ رعایا نظر کرم کی منتظر ہے۔تھر جیسی بدقسمتی بستی بھی سندھ کا حصہ ہے۔ جہاں نومولود تھری بچے مکھی مچھروں کی طرح مرتے چلے جاتے ہیں۔ لاڑکانہ کی خبر لیں جہاں کچھ عرصہ پہلے سینکڑوں بچوں میں ایڈز کی بیمایر لاحق ہونے کی خبروں نے عالمی ادارہ صحت کو بھی چونکا کے رکھ دیا تھا۔ 2016ء کے اعداد و شمار کے مطابق صوبہ سندھ میں تھیلسیمیا کے کم و بیش 2لاکھ مریض ہیں جنہیں ہر ماہ انتقال خون کی ضرورت پڑتی ہے۔ سندھ پر 12سال سے حکمرانی کرتے ہوئے اس شاہی خاندا ن کی ایک شہزادی نے گزشتہ دنوں ملتان جلسے میں اپنی پہلی انٹری ڈالی۔

پاکستان کے دو حکمران خاندانوں کی دو شاہزادیاں مریم نواز شریف اور آصفہ بھٹو زرداری جب پی ڈی ایم کے جلسے میں ہاتھ لہرا کر عوامی نعروں کا جواب دے رہی تھیں تو عہد ساز صحافی دانشور اور شاعر محمود شام نے سفید کاغذ پر کالی روشنائی سے یہ نوحہ لکھا۔ غلاموں کی نمائش ہو رہی ہے وراثت کی ستائش ہو رہی ہے دکھا ک اک جھلک شہزادیوں کی رعایا پر نوازش ہو رہی ہے بدترین شخصیت پرستی کا شکار پاکستانی عوام پر بھی حیرت ہوتی ہے جو اسی عطار لڑکے سے پھر دوا لینے پہنچ جاتے ہیں کہ جن سبب بیمار ہوئے۔لیکن کیا کریں شاید ان کے پاس آپشن نہیں ہیں ،تبدیلی کے خواب اور نیا پاکستان کے نعرے کی عملی صورت اس وقت جس حبس زدہ فضا کو جنم دے چکی ہے اس میں لوگ گھبرا کر لو کی دعا مانگنے لگے ہیں لیکن یہ کوئی علاج تو نہیں اے چار گراں!حکمرانوں کے اس سابقہ اور حالیہ ٹولے کو دیکھ کر مجھے منیر نیازی یاد آتا ہے۔

میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا

عمر مری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا

شہر میں وہ معتبر میری گواہی سے ہوا

پھر مجھے اس شہر میں نامعتبر اس نے کیا

تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close