منتخب کالم

ایک لاوارث شہر/اسداللہ خان

اسداللہ خان

ڈاکٹر فاروق ستار سے طویل ملاقات ہوئی۔ یوں تو سیاستدان کبھی ریٹائرنہیں ہوتا لیکن فاروق ستار کی زیادہ سیاسی مصروفیت نہیں رہی۔ شکوہ‘ دکھ‘ پریشانی‘ جستجو اور خواہش جیسی مختلف کیفیات ان پر طاری رہتی ہیں۔شکوہ ایم کیو ایم پر قبضہ کرنے والوں سے‘ دکھ پارٹی سے نکالے جانے کا‘ پریشانی سیاسی کیریئر کے ختم ہونے کی‘ جستجو کراچی کے لئے کچھ کرنے کی اور خواہش سیاست میں دوبارہ فعال ہونے کی۔ وہ چاہتے ہیں مصطفی کمال کی پاک سرزمین پارٹی‘ خالد مقبول کی ایم کیو ایم اور فاروق ستار کی حق پرست موومنٹ اتحاد بنا لیں تو بلدیاتی انتخابات اور بعدازاں عام انتخابات میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کو بچھاڑ کر شہری سندھ میں اکثریت حاصل کر سکتی ہیں۔ ان کے مخالفین کا خیال ہے کہ فاروق ستار ایسی باتیں صرف کراچی کی سیاست میں اپنی جگہ پیدا کرنے کے لئے کر رہے ہیں جبکہ فاروق ستار کا خیال ہے کہ اگر وہ ان لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں جنہوں نے انہیں پارٹی سے نکال کر قبضہ کر لیا اور اگر وہ ان کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں جنہوں پی ایس پی بنانے کے بعد ان پر شدید الزا مات عائد کئے تو وہ صرف کراچی کی بہتری کے لئے ایسا کر رہے ہیں۔ کراچی کے مسائل کیا ہیں‘ کراچی والے بیچارے مانگتے کیا ہیں؟ دو تین بنیادی چیزیں اگر انہیں دے دی جائیں تو وہ خوش ہو جائیں گے۔ کراچی کی نوے فیصد سے زیادہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جہاں ہر وقت دھول اڑتی رہتی ہے کئی مرکزی شاہرائوں پر بڑے کھڈوں کو ظاہر کرنے کے لئے عوام الناس نے درجنوں کی بڑی بڑی جھاڑیاں کھڑی کر رکھی ہیں تاکہ کوئی انجان مسافر حادثے کا شکار نہ ہو جائے۔ کراچی کی بیشتر سڑکیں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے ہرگز شایان شان نہیں۔ سڑک پر چلتے ہوئے یہ شہر ٹنڈوالہ یار یا عمر کوٹ جیسے کسی شہر سے زیادہ معلوم نہیں ہوتا۔ کراچی کے پسماندہ علاقے ملیر اورنگی کورنگی وغیرہ تو ویسے ہی جنگ شاہی اور مال ماڑی معلوم ہوتے ہیں۔ لہٰذا سب سے پہلے تو کراچی کے شہری سڑک مانگتے یں‘ صرف سڑکیں دے دی جائیں تو ان کی جھنجھلاہٹ کم ہو جائے گی۔ کراچی کا دوسرا بڑا مسئلہ صفائی ہے۔ شہر بھر میں صفائی کا معقول انتظام موجود نہیں۔ کہرے کو جلانا معمول بن چکا ہے۔لیاری ندی ہو یا شہری علاقے کچرا کنڈیوں میں جا بجا آگ لگی رہتی ہے شہریوں کے بقول کچرا جلانا مجبور ہے ورنہ وہ سڑک تک آ جاتا ہے عوام کو توچھوڑیے خود محکمے کے لوگ فلتھ سائٹس پر کچرے کو آگ لگا دیتے ہیں۔ لیاری ایکسپریس وے پر جائیے تو سڑک کے دونوں اطراف مٹی جم چکی ہے جانے کب سے کسی نے صفائی نہیں کی۔ کراچی کے شہریوں کو صاف ستھرا شہر چاہیے۔ اگرچہ کراچی میگا پرابلم سٹی ہے مسائل یہاں ہزاروں ہیں لیکن چلئے بنیادی دو تین چیزیں تو عوام کو دیجیے انہیں روشنیوں کے شہر کا باسی ہونے کا احساس تو ہو۔ فاروق ستار کے خیال میں وسیم اختر کراچی کے ناکام ترین میئر ثابت ہوئے ہیں ان کے خیال میں وسیم اختر کی کارکردگی ایم کیو ایم کو اگلے انتخابات میں صرف دو نشستوں تک محدود کر سکتی ہے۔ انہیں یہ بھی لگتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم کو بہت مار پڑے گی‘ وجہ وہی وسیم اختر کی ناقص کارکردگی مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ خالی ہونے والی جگہ لے گا کون؟ پیپلز پارٹی؟ جس کا نام بھی کراچی والے سننا پسند نہیں کرتے یا پھر تحریک انصاف؟ جس کے 36 منتخب نمائندوں سے عوام ناراض ہیں کہ ووٹ لیے اور پھر کبھی مڑ کر نہیں دیکھا۔ تحریک انصاف کے چودہ منتخب ایم این ایز کو کیا معلوم نہیں کہ اگلا الیکشن اس دلیل پر نہیں لڑا جائے گا کہ ہم تو سندھ میں اپوزیشن میں تھے ہمارے اختیار میں کچھ تھا نہیں۔عملی میدان سیاست میں تو عوام پوچھتے ہیں تمہیں ووٹ دیا تھا کیا کیا؟ بلدیہ ٹائون جانے کا اتفاق ہوا‘ لوگ کہتے ہیں فیصلے واوڈا دوبارہ نظر نہیں آئے ووٹ لے کر غائب ہو گئے۔ عجیب طرح کی صورتحال ہے کراچی میں کام نہ ہونے کا نقصان پیپلز پارٹی کو نہیں تحریک انصاف کو ہو گا۔ پیپلز پارٹی کراچی کی نمائندہ جماعت نہیں ۔وہ دیہی سندھ سے ووٹ لے کر کراچی پر حکومت کرتی ہے وہ کراچی میں کام نہیں کریں گے انہیں لگتا ہے اس کا سیاسی طور پر انہیں فائدہ نہیں۔ بلکہ کام نہ کرنے کا انہیں فائدہ ہے کہ تحریک انصاف کو نقصان پہنچے گا ۔اگلے انتخابات میں پی ٹی آء یکے 36ایم پی ایز اور ایم این ایز عوام کے کٹہرے میں ہوں گے۔ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو اس کا ادراک نہیں کچھ بھی کر کے انہیں کراچی کی شکل بدلنا ہو گی۔ گیارہ سو ارب روپے کے منصوبوں کو عملی شکل دینا ہو گی۔ ڈیفنس میں رہنے والے تحریک انصاف کے دس ایم این ایز کو عوام کے پاس ان کے غریب علاقوں میں جانا ہو گا۔ انہیں مایوس ہونے کراچی کے مسائل بے شمار ہیں۔ پانی کا مسئلہ ان میں سے ایک ہے۔ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ بھی کم اہم نہیں۔ کراچی میں درخت لگانے کی اشد ضرورت ہے شہر بھر میں گھوم لیں گرین بیلٹس ویران پڑی ہے۔ درخت لگا دیے جائیں تو شہر کا حلیہ بدل جائے گا۔ حب ڈیم جانے کا اتفاق ہوا راستے میں ایکڑوں کے ایکڑ خالی پڑے ہیں بلین ٹری منصوبہ تو شاید کراچی میں ہی مکمل کیا جا سکتا ہے مگر کراچی کسی کی ترجیح نہیں۔ کراچی میں کسی کی حکومت نہیں۔ عجیب ستم ظریفی ہے جو کراچی سے منتخب ہوا اس کے پاس اختیار نہیں۔ جس کے پاس اختیار ہے وہ کراچی کا نمائندہ نہیں۔مسائل کے انبار لگے ہیں سارے مسائل حل نہیں ہوتے تو کہیں سے آغاز ہی کر دیں۔ چلیں کراچی کو صرف سڑکیں دے دیں اور شہر کو صاف کر دیں‘ کراچی والے اسی سے خوش ہو جائیں گے۔

تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close