ادبی کالمکالم

شہر نا مطلوب / راشد محمود بٹ

راشد محمود بٹ

بچپن میں ٹیوشن پڑھنے کے لیئے جس اکیڈمی میں مجھے جانا ہوتا تھا، اس کے رستے میں بہت سے زر دوزی (سلمے ستارے) کے اڈے تھے جہاں لڑکے صبح سے شام نفیس کپڑے پر موتی، گوٹا کناری کا کام کرتے رہتے اور میں ان کے سامنے سے گزرتے ہوئے چند ساعتوں کے لیئے انہیں دیکھ کر مبہوت ہو جاتا۔ ایک بزرگ جو اکثر کرسی لگا کر باہر بیٹھے رہتے تھے مجھے ان کے ناظم معلوم ہوتے تھے، ایک دن ہمت کر کے میں نے بابا جی سی سوال کرنے کی ٹھانی اور ان کے پاس پہنچتے ہی بنا سلام دعا کے سوال داغ دیا کہ آپ اکثر لال اور پیلے رنگ کا کپڑا ہی استعمال کیوں کرتے ہیں اور ان پر ہرے رنگ کا گوٹا ہی زیادہ کیوں لگاتے؟ بابا جی اچھی طبیعت کے مالک ثابت ہوئے اور میرے اچانک سوال پر مسکرا دئیے، مجھے ان کا مکمل جواب تو یاد نہیں البتہ جو کچھ انہوں نے کہا اور اس وقت میرے پلے پڑا وہ کچھ یوں تھا کہ “بیٹا یہ رنگ تو علامتیں ہیں لال خوشی اور محبت کی علامت ہے، یہ جس رنگ کے ساتھ بھی آئے اسے خوشگوار بناتا ہے۔ ہرا رنگ تازگی بخشتا ہے، یہ مہندی کا رنگ ہے۔ ہم دلہنوں کے لیئے یہ لباس بناتے ہیں تاکہ وہ اچھا دکھیں۔ یہ رنگ تو ہمارے جذبات کی علامت اور عکاس ہیں۔ یہ سارا کھیل علامتوں کا ہے۔ میں جتنا عرصہ وہاں سے گزرتا رہا یہ الفاظ میرے کانوں میں گونجتے رہے اور آج کئی سال بعد میں جناب عاطف علیم کا افسانوی مجموعہ “شہر نامطلوب” پڑھنے بیٹھا تو بابا جی کا جواب میرے ذہن میں کوندا اور میں کتاب چھوڑ کر ایک دفعہ پھر ناسٹیلجیا کا شکار ہو گیا۔ یہ سارا کھیل علامتوں کا ہے۔ کیا خوب ہو اگر ایک دن ہمیں معلوم پڑے کہ ہم تو خود علامتیں ہیں۔ تہذیب کے ارتقائی سفر میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کے لیئے انسان نے علامتوں کا سہارا لیا اور اسی کے بطن سے زبان اور تحریر پیدا ہوئے۔

“شمشان گھاٹ” کے بعد “شہرنامطلوب” جناب عاطف علیم کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے جو گیارہ افسانوں پر مشتمل ہے جن کے نام اور ترتیب کچھ یوں ہے جاگنے کو ملادیوے خواب میں، لاوقت میں ایک منجمد مسافت، شہرنامطلوب، مرگ بردوش، طربیہ خداوندی جدید، بیاں اک ناقابل بیاں کا، دھند میں لپٹا ہوا لایعنی وجود، گمشدہ لوری کی بازیافت، ایک ناگزیر بلاوے کی روداد، خواب راستے پر تھمے قدم، کچھ دیر غالب کے ساتھ۔

اکیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں میں اس ملک مطلوب کو کیا حاصل ہوا؟ ایک سادہ سوال ہے، اگر اس کا جواب کوئی دہشت گردی اور دھرنا سیاست دے تو کم لوگ ہی اس کے منکر ہوں گے۔ تیسرا افسانہ شہرنامطلوب اصحاب کہف کے کتے قطمیر کی آنکھ سے ایسے ہی افراتفری سے بھرے شہر کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ پہلے شہر فصیلوں اور دروازوں میں مقید بنائے جاتے، وقت گزرنے کے ساتھ یہ شہر فصیلوں کے باہر بھی پھیل گئے۔ ان فصیلوں کے شہر کا کوئی مکین وقت کی کروٹ کے ساتھ آج لوٹ آئے تو اپنے شہر کی وسعت سے پریشان ہو جائے۔ اک ایسے ہی شہر افسوس کا مکین قطمیر اپنے سات ساتھیوں کے ساتھ حاکم وقت کے جبر سے تنگ شہر سے باہر جا نکلا اور ایک غار میں طویل نیند کی چادر اوڑھ لی۔ اور اب دوبارہ جاگ کر اسے ایک نئے شہرنامطلوب کا سامنا ہے۔

چوتھا افسانہ “مرگ بردوش”

اگر آپ نے اس سال کی آسکر انعامات کی تقریب نہیں دیکھی، تو یہ افسانہ پڑھنے سے پہلے ایک دفعہ بہترین اداکار کا آسکر جیتنے والے جوکوئن فینکس کی تقریر سن لیں جو باآسانی ٹیوب پر مل جائے گی۔ جوکوئن کہتا ہے “میرے خیال میں ہم فطری دنیا سے بہت منقطع ہوگئے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایک خودغرض دنیا کے نظریہ کے مجرم ہیں، اور ہمیں یقین ہے کہ ہم کائنات کا مرکز ہیں۔ ہم فطری دنیا میں جاتے ہیں اور ہم اس کے وسائل لوٹتے ہیں۔ ہم گائے کی مصنوعی تخم ریزی کرتے ہیں اور پھر اس کے بچے کو چوری کر لیتے ہیں، حالانکہ اس کی تکلیف کی چیخوں کو بےوجہ جانتے ہیں۔ پھر ہم اس کا دودھ لیتے ہیں جو اس کے بچھڑے کا ہے اور ہم اسے اپنی کافی اور اپنے اناج میں ڈال دیتے ہیں۔” ہزاروں سالوں پر مشتمل ہمارا دیگر سپیشز کے ساتھ تعلق انسانی شرائط پر قائم ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ دیگر جانوروں پر مسلط ہے۔ یہ دو طرفہ نہیں اور آج کی سائنٹیفک اپروچ والی دنیا میں بھی اس بات کو بیوقوفی سمجھنے والے کم نہیں۔ جانوروں کے ساتھ ہمارے مراسم کا آغاز ہماری ضرورتوں پر تھا جو وقت کے ساتھ بڑھتی گئیں اور ہم نے ان کا بے دریغ استعمال کیا۔ آج یہ ضرورت کے خانے سے نکل کر فیشن، شوق اور دکھاوا ہے۔ ایک حساس ذہن ہی یہ محسوس کر سکتا ہے اور یہ احساس آپ کو جناب عاطف علیم کے کام میں جگہ جگہ محسوس ہوگا جو ان کی حساسیت کا عکاس ہے۔ مرگ بردوش ایک ایسا ہی افسانہ ہے جو ایک بیل کی بپتا سناتا ہے اور پیدائش سے اختتام تک کی اس کی زندگی کو پیش کرتا ہے۔ کس طرح بچپن میں اس کی ماں اس کے ناز نخرے اٹھاتی ہے۔ مالکان کے بچے لاڈ پیار سے اس کا نام “گگا” رکھتے ہیں۔ پینو کے ساتھ دل لگی، جوانی اور پھر بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچتے پہنچتے انسانوں کا اس کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ۔ یہ افسانہ گگے یا صرف گائے بیل کی نمائندگی نہیں کرتا، بلکہ ان تمام سپیشز کے جانوروں کا دکھڑا پیش کرتا ہے جو ہمارے عتاب کا شکار ہیں۔

جوکوئن فینکس نے اپنی تقریر کا اختتام اپنے مرحوم بھائی رئیور فینکس کے ان الفاظ سے کیا، جن کا مجھے سہارا لینا پڑ رہا ہے:

 run to the rescue with love and peace will follow.

اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم کب دیگر جانوروں کے بچاؤ کے لیئے دوڑتے ہیں۔

ایف سکاٹ فٹزجیرالڈ نے کہا تھا کہ کسی فرد کی زندگی کا تنہا ترین لمحہ وہ ہوتا ہے جب اس کی پوری دنیا کو ٹوٹ پھوٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو اور وہ سوائے دیکھنے کے کچھ نہ کر سکے، تنہائی اور اس کا کرب اکثر افسانوں میں چھایا ہوا نظر آتا ہے۔ خاص کر آخری تین افسانے قاری کو تنہا ہونے کا احساس شدت سے دلاتے ہیں، انسانی زندگی کی اہم حقیقت تنہائی ہے اور یہ تنہائی ہی ہے جس سے فن کے نمونے جنم لیتے ہیں اور تنہائی میں ہی ماضی انگڑائی لے کر سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ نواں افسانہ “ایک ناگزیر بلاوے کی روداد” بھی ایک ایسی ماں کی کہانی ہے جو سردیوں کی ایک رات سرد کمرے میں اپنی موت کی منتظر، ماضی کے دریچوں میں جھانکتی ہے۔ دسمبر کی سرد رات میں یہ افسانہ پڑھتے ہوئے سرد لہر خون میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔

میں نے کہیں پڑھا تھا جو انگریزی میں کچھ یوں ہے کہ” Child loss is not an event, it is an indescrible journey of survival” ایک ایسے ہی سروائول کی کہانی سناتا دسواں افسانہ “خواب راستے پر تھمے قدم” ہے۔ جوں جوں کہانی آگے بڑھتی ہے قاری بھی خود کو درد اور دکھ میں مبتلا پاتا ہے۔ ایک جوڑا اپنی اولاد کو کھونے کے بعد کس کرب میں بقیہ زندگی گزارتا ہے، شاید ہی کوئی مختصر تحریر اسے اس طرح پیش کر سکے جس انداز سے عاطف علیم صاحب نے اپنے قاری کے لیئے پیش کیا ہے۔ شہر نامطلوب اور مرگ بردوش کے بعد یہ اس کتاب سے میرا تیسرا پسندیدہ ترین افسانہ ہے۔

کتاب کا اختتام گیارھویں افسانے “کچھ دیر مرزا غالب کے ساتھ” ہوا ہے۔ یہ شہری جھنجھٹوں سے کچھ دیر کے سکون کی تلاش میں سرگرداں شخص کی مرزا غالب سے ملاقات اور دوسرے جہاں کا سرسری ادبی منظر دکھاتا ہے۔ اس کتاب کا شاید ہی کوئی افسانہ ایسا ہو جو قاری کی توجہ اپنی طرف نہ کھینچیں، طربیہ خداوندی جدید اور بیاں اک ناقابل بیاں کا اک مکمل الگ تحریر کے لائق ہیں، ان سمیت دیگر افسانوں پر جلد بات ہو گی۔ یہ کتاب صریر پبلیکیشنز نے نہایت خوبصورتی سے شائع کی ہے اور میرے خیال میں آئندہ آنے والے مہینوں سالوں میں ادبی حلقوں میں اس پر خوب بات ہو گی۔

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close