منتخب کالم

دو قہقہے خطرناک ہوتے ہیں/محمداظہارالحق

محمداظہارالحق

ایسا اس سے پہلے نہ کبھی دیکھا‘ نہ سنا۔ وزیر اعظم کہہ رہے تھے کہ ہمیں تو تین مہینے صرف سمجھنے پہ لگ گئے‘ڈیڑھ سال تک ہمیں Actual Figuresیعنی اصل اعدادوشمار کا ہی نہیں پتہ چل رہا تھا۔ ان کے سامنے جو لوگ بیٹھے تھے ان میں کچھ ایسے تھے جو گزشتہ ادوار میں کئی کئی بار حکومتوں کا حصہ رہے تھے۔ کتنی ہی وزارتیں چلا چکے تھے۔ کبھی پیپلز پارٹی کے ساتھ‘ کبھی پرویز مشرف کی کابینہ میں ‘ کبھی مسلم لیگ کے دورِ اقتدار میں ! ایسی شخصیات بھی اُس فنکشن میں موجود تھیں جو بیرون ملک کاروبار چلا رہی ہیں اور ہر اونچ نیچ کو سمجھتی ہیں۔ ایسے بیورو کریٹ بھی بیٹھے ہوئے تھے جو ساری ساری زندگی اُن اعداد و شمار سے کھیلتے رہے تھے جن کے بارے میں وزیر اعظم کہہ رہے تھے کہ ڈیڑھ سال تک اُن کاپتہ ہی نہیں چلا۔ ان کے ایک مشیر ایسے بھی ہیں جو بیس سال تک ورلڈ بینک کے اعلیٰ مناصب پر رہے۔ پھر سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر رہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ڈیڑھ سال تک وزیر اعظم کو ‘ بقول ان کے‘ اصل اعدادو شمار کا پتہ ہی نہیں چلا تو یہ مشیر صاحب کہاں تھے؟
لیکن اس منظر کے مضحکہ خیز ہونے کی وجہ یہ نہیں تھی۔ وجہ یہ تھی کہ یہ سب لوگ ‘ یہ سب تجربہ کار وزرا‘ یہ سب منجھے ہوئے سیاستدان ‘ یہ سب سرد و گرم چشیدہ بیوروکریٹ‘ یہ مشیرانِ کرام ‘ یہ معاونین خصوصی‘ وزیر اعظم کے سامنے بیٹھے ہوئے بظاہر تابع اور ماتحت لگ رہے تھے مگر اصل میں شاید ایسا نہیں تھا۔معاملہ اغلباً الٹ تھا۔ ان سب نے ماسک پہن رکھے تھے‘ جس کے باعث ان کے چہروں کے تاثرات پڑھے نہیں جا سکتے تھے۔ یہ سب بے حس و حرکت بیٹھے تھے۔ وزیر اعظم بول رہے تھے اور لگتا تھا یہ ان کی باتیں سن کر مسکرا رہے تھے۔ ان میں سے جو وزیر دوسری پارٹیوں سے ادھار لیے گئے تھے وہ گویا یہ کہنا چاہتے تھے کہ جناب ِوزیر اعظم ! یہ کاروبارِ مملکت ہم تو خوب سمجھتے ہیں‘ آپ کو ڈیڑھ سال سمجھنے میں لگ گیا کیونکہ آپ پہلی بار حکومت میں آئے ہیں۔ ہمیں تو اول روزِ ہی سے سب سمجھ میں آرہا تھا اس لیے کہ ہم نے کئی حکومتیں بھگتائی ہیں‘ کئی بار وزارتوں میں کام کیا ہے۔ مگر ہم سمجھنے سمجھانے میں آپ کی مدد کیوں کرتے ؟ ہمیں آپ سے کیا ہمدردی ہے؟ ہمارا مقصد تو تحریک انصاف کی حکومت میں شامل ہوکر اقتدارکا مزالوٹنا تھا۔ ہماری آپ سے کوئی نظریاتی وابستگی ہے نہ سیاسی ہم آہنگی ! ہمارا آپ سے اتنا ہی اخلاص ہے جتنا آپ کے اُس وعدے میں تھا جس کی رُو سے آپ نے جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانا تھا۔ ہمیں معلوم تھا یہ صوبہ نہیں بننا مگر آپ نے حکومت تشکیل دینا تھی اور ہم اس حکومت کا حصہ بننا چاہتے تھے۔ نہ آپ نے صوبہ بنانا تھا نہ ہم نے معاملات سمجھنے میں آپ کی مدد کرنا تھی۔ اللہ اللہ خیر سلا۔
جو بیرون ملک سے آئے ہوئے مشیر اور معاونین تھے وہ بھی وزیر اعظم کا اعتراف سن کر دل ہی دل میں ہنس رہے تھے۔ شاید وہ کہنا چاہتے تھے کہ جہاں پناہ ! ہم بیرون ملک اپنے بڑے بڑے بزنس کامیابی کے ساتھ چلا رہے ہیں۔ اس ملک کے معاملات ہمارے لیے بہت آسان ہیں۔ اس کا مالی پھیلاؤ تو کسی ملٹی نیشنل کمپنی یا ادارے کے مالی پھیلاؤ سے بھی کم ہے۔ مگر ہمیں کیا پڑی تھی کہ آپ کی مدد کرتے اور معاملات کی تفہیم میں آپ سے تعاون کرتے۔ ہمیں جو کرسیاں آپ نے دی ہیں وہ تو ہماری اُن خدمات کا صلہ ہیں جو ہم ماضی میں سر انجام دے چکے ہیں۔ ذرا یاد کیجیے جب آپ بیرون ملک تشریف لاتے تھے تو ہم استقبال کرتے تھے۔ جب تک قیام ہوتا تھا ہمیں ہمرکابی کا شرف حاصل ہوتا تھا۔ ہم میں سے کچھ فنڈز بھی اکٹھا کرتے تھے۔ اگر ہماری خدمات نہ ہوتیں تو ہمیں یہ مناصب کہاں ملنے تھے کیونکہ جہاں تک لیاقت کا تعلق ہے تو ہم سے کہیں زیادہ لائق لوگ ملک میں میسر ہیں۔ ہمارا چھکا تو ذاتی تعلقات کی وجہ سے لگا ہے۔ اس میں میرٹ کا عمل دخل اتنا ہی ہے جتنا انصافی حکومت میں انصاف کا ہے۔
گنتی کے جو چند وزیر ‘ تعداد کے لحاظ سے آٹے میں نمک کے برابر ‘ پی ٹی آئی کے وہاں بیٹھے تھے وہ وزیر اعظم کی درد انگیز باتیں سن کر مغموم ہو رہے تھے اور صرف وہی تھے جن کے دل رو رہے تھے۔ گویا وہ کہنا چاہتے تھے کہ ہمارے تو حوصلے ہی ٹوٹ گئے کہ اٹھارہ ‘بیس‘ بائیس سال ساتھ ہم نے دیا ‘ جدو جہد ہم نے کی ‘ دھرنے ہم نے دیے ‘ مگر کابینہ پر آکر وہ چھا گئے جن کا پارٹی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ تو جناب ِوزیر اعظم !ذہنی نا آسودگی کے اس عالم میں ہم آپ کی کیا مدد کرتے اور اصل اعداد و شمار سمجھنے میں ہم آپ کی رہنمائی کس طرح کرتے ؟ وہ یہ سب کچھ کہنا چاہتے تھے مگر مجبوری اور بے بسی کہ کہہ نہیں سکتے تھے۔ رہے اتحادی پارٹیوں کے وزرا تو اِن کی لاتعلقی قابل فہم تھی۔حکومت کی ناکامی تحریک انصاف کے کھاتے میں جا رہی تھی۔ اتحادی جماعتیں فائدے میں حصہ دار تھیں ‘ نقصان میں نہیں !
وزیر اعظم کے سامنے چیدہ چیدہ‘ بلند و بالا مقامات پر فائز‘ بیوروکریٹ بھی ان کا اعترافِ عجز سُن رہے تھے۔ ماسک کی وجہ سے پتہ نہیں چل رہا تھا کہ ان کے چہروں پر کیا تاثرات تھے۔ غالباً مسکرا رہے تھے۔ یہ سول سروس کے ایک مخصوص طائفے سے تھے۔ حقیقی حکمرانی ان کی تھی۔ اصل اقتدار ان کے ہاتھ میں تھا۔ جن لسانی اور علاقائی بنیاد وں پر انہیں چُن کراوپر لایا گیا تھا ‘ انہی بنیادوں پر وہ آگیاپنے ماتحتوں کو نواز رہے تھے وہ اپنے ساتھیوں (Batch Mates)کو‘ بطور خاص‘ کلیدی اسامیوں پر بٹھا رہے تھے۔ ان کی پانچوں گھی میں اور سر کڑھائی میں تھے۔ یہ کیوں وزیر اعظم کی مدد کرتے؟ یوں بھی ان ”بہادروں‘‘ کو یہ خوف تھا کہ فیصلے کیے تو بعد میں کسی نہ کسی مرحلے پر دھر لیے جائیں گے۔ اس لیے ٹالنے اورمعاملات لٹکانے کی پالیسی انہیں خوب راس آرہی تھی۔ بانس ہی نہیں ہو گا تو بانسری کیسے بجے گی!
ڈیڑھ سال وزیر اعظم اذیت میں رہے۔ کتنی ہی راتیں انہوں نے بے خواب بسر کی ہوں گی! کتنے ہی دن گہری سوچوں میں گزارے ہوں گے! مگر یہ موم کے پتلے‘ جوچہروں پر ماسک نما ڈاٹھے باندھے ان کے سامنے بے حس و حرکت بیٹھے تھے‘ وزیراعظم کی پریشانیوں اور امنگوں سے بے نیاز تھے۔ ان میں سے ہر ایک اس قابل تھا کہ انہیں ڈیڑھ سال کے عرصے میں ‘
یعنی اٹھارہ مہینوں میں ‘ اصل اعداد و شمار سمجھنے میں مدد دے سکے‘ مگر یہ سب موجود ہوتے ہوئے بھی عملاً لاتعلق تھے۔ مجھے یوں لگا جیسے ان سب وزیروں‘ مشیروں ‘ معاونین اور ٹاپ بیوروکریسی کے ہوتے ہوئے بھی وزیراعظم تنہا تھے۔وزیراعظم کے غم کو ‘ بانٹنا تو دور کی بات تھی‘ سمجھنے والا ہی کوئی نہ تھا !ترس آتا ہے! کچھ کرنے کی امنگ دل میں پالنے والا وزیراعظم! لیکن کسی مخلص رفیقِ کار کے بغیر ! تنہا ! بالکل تنہا ! مجید امجد نے شاید ہمارے وزیر اعظم ہی کے بارے میں یہ المناک شعر کہے تھے؎
دل نے ایک ایک دُکھ سہا تنہا
انجمن انجمن رہا تنہا
ڈوبتے ساحلوں کے موڑ پہ دل
اک کھنڈر سا رہا سہا تنہا
گونجتا رہ گیا خلاؤں میں
وقت کا ایک قہقہہ تنہا
کوئی وزیر اعظم صاحب کی خدمت میں عرض کرے کہ دو قہقہے خطرناک ہوتے ہیں۔ایک وقت کا۔ دوسرا تاریخ کا!

تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close