منتخب کالم

کیونکہ اُمید ’’قرنطینہ‘‘ نہیں ہو سکتی…!!سعدیہ قریشی

سعدیہ قریشی

2020ء دکھوں سے بوجھل اور خوف سے چھلکتا ہوا سال تھا۔ جو اب سال گزشتہ میں ڈھل گیا۔ اس برس کی دلخراش یادیں‘ ہمارے ذہنوں سے محو نہیں ہو سکیں گی۔ زندگی تاحال وبا کے شکنجوں میں ہے۔ خوف اور بے یقینی کی فضا میں ابھی کمی نہیں آئی۔ مگر نئے سال کی یہ نئی صبح ہے۔ جنوری 2021ء کا آج پہلا دن ہے تو کیوں نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائیں اور دلوں میں اُمید کی فصل بوئیں۔ وبا اور بے یقینی کے اس تسلسل کے باوجود‘ مجھے نئے برس کی یہ صبح تروتازہ اور نئی نکور لگ رہی ہے۔ بے شک ایک ہندسے ہی کا فرق ہے۔ آس پاس سب کچھ ویسا ہی ہے کچھ بھی تو نہیں بدلا لیکن‘ اس بار بیس کا اکیس ہو جانا بھی تبدیلی کا احساس دے رہا ہے اور زندگی میں بہتری کی امید ہر برس سے زیادہ اس برس دل میں ایک ولولہ اور ایک عزم سا جگاتی ہے۔ شاید اس لئے کہ ستارے ہمیشہ اندھیرے میں چمکتے ہیں۔تاریکی زیادہ ہو تو‘ دیے کی ایک لو بھی‘ منظر روشن کر دیتی ہے۔

نئے برس کے آغاز پر‘ نیو ایئر ریزولیوشن بنانا دنیا بھر میں ایک روایت ہے۔ زندگی بھلے، اسی پہلی سی صورت میں ہوتی ہے۔ بھلا ایک ہندسے کے بدلنے سے کیا بدل سکتا ہے۔ لیکن پھر بھی ایک برس کے اختتام اور نئے برس کے آغاز پر جو تازہ پن احساس میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ بھی غنیمت ہے۔ بات تو ساری سوچ اور احساس کی ہے۔ سو گزشتہ برس کے پچھتاوں اور غلطیوں کی گرد جھاڑ کر نئے سرے سفر کا آغاز کریں۔ فہرست کا آغاز سب سے پہلے ان باتوں سے کرتے ہیںجو ہم نے وبا کے اس برس میں سیکھیں ہیں اور جس پر عمل کرتے رہنا بہت ضروری ہے۔ پاکستانی میڈیا میں پہلی بار صحت بخش غذائوں اور قوت مدافعت کے بڑھانے کا تذکرہ کورونا وائرس کی وبا کے تناظر میں ہوا۔ پہلی بار اس موضوع پر قومی اخبارات میں کالم لکھے گئے اور پرائم ٹائم کے پروگراموں میں دار چینی اور ادرک کے قہوے کے فائدوں پر بات ہوئی۔ پہلی بار پرائم ٹائم میں ڈاکٹروں کو پینل میں شامل کیا گیا۔ پہلی بار لوگوں نے ٹی وی اینکروں سے سنا کہ قوت مدافعت بیماری سے بچائو کے لئے کس قدر ضروری ہے۔ اگر بیماری حملہ آور ہو بھی جائے تو بہتر قوت مدافعت کا شخص وائرس کا مقابلہ کر کے اس بیماری کو شکست دے سکتا ہے۔سو یہ ایک چیز جو آپ نے سیکھی ہے‘ اسے ہمیشہ کے لئے اپنی زندگیوں میں شامل کریں۔

قوت مدافعت قدرت کی طرف سے بیماریوں کے خلاف انسان کو ایک ڈھال عطا کی گئی ہے۔ اسے مضبوط اور توانا رکھنے کے لئے۔ وقت پر سونا ،جلد بیدار ہونا ،ہفتے میں کم از کم پانچ دن 30منٹ کی جسمانی ورزش کرنا، سبزیوں اور پھلوں کو اپنی غذا کا حصہ بنانا،میتھی دانہ‘ کلونجی ‘ ادرک‘ لہسن ‘ دار چینی۔یہ سب چیزیں صحت کی حفاظت کے لئے قدرت کا انمول تحفہ ہیں۔ انہیں اپنی غذا میں شامل کرنا چاہیے۔ سفید آٹے کی جگہ گندم کا خالص آٹا‘ بیسن ‘ جو کا استعمال آپ کی امیونٹی بریگیڈ کو بیماریوں کے خلاف ہمیشہ الرٹ اور طاقت ور رکھتا ہے۔ سو صحت کی حفاظت اپنی فہرست میں نمبر ون رکھیں۔ 2۔ اس سال آپ جو مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کی فہرست بنا کر روزانہ کی بنیاد پر ان مقاصد کے حصول کے لئے وقت نکالیں۔ اس کے لئے آپ کا پورے دن کے وقت کو بہتر طور پر تقسیم کرکے۔ استعمال میں لانے کے طریقے سیکھیں۔ اس کے لئے ٹائم مینجمنٹ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ یقین جانیں یہ بھی ایک پورا سبجیکٹ ہے میرا پسندیدہ موضوع ہے اس پر پڑھتی رہتی ہوں اور بساط بھر عمل بھی کرتی ہوں۔ نئی ریسرچ یہ آئی ہے کہ ہم جو ہمیٹہ ٹائم مینج کرنے کا سوچتے تھے اور پھر بھی کئی کاموں کے لئے وقت نہیں نکل سکتا تھا۔ تو اس کا حل اب ریسرچرز نے Time Blockingکی صورت میں نکالا ہے۔ اس پر پورا کالم جلد ہی لکھوں گی۔ مجھے یہ تکنیک زیادہ بہتر اور کارآمد لگی ہے کیونکہ میں نے ٹائم بلاکنگ کا خود تجربہ بھی کر کے دیکھا ہے۔ ٹائم بلاکنگ ہو یا ٹائم مینجمنٹ اس کا پہلا اصول تو یہ ہے کہ آپ کو وہ تمام کام چھوڑنے پڑتے ہیں جس سے وقت ضائع ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گزارے جانے والے وقت کا پورا احتساب کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ اس دور میں سوشل میڈیا ایک ایسا اژدھا ہے جو ہمارا وقت ایسے ہڑپ کرتا ہے کہ پتہ نہیں چلتا وقت گیا کدھر ہے۔ وقت کا بہترین استعمال یہ ہے کہ جو ہنر آپ کو آتا ہے وہ دوسروں کو سکھائیں اور خود کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کرتے رہیں۔ وبا ابھی ٹلی نہیں۔ اس تباہ کاریاں ابھی دنیا بھر میں جاری ہیں۔ اس برس کی سب سے بڑی خبر یہی ہو گی کہ کورونا کی زیر تجربات ویکسین‘ عام انسانوں کو لگنا شروع ہو جائے۔ ابھی صرف تین تجرباتی بنیادوں پر لگ رہی ہے۔

دعا ہے کہ اس نئے برس کورونا کی وبا مکمل قابو میں آ جائے اس وقت جو خوف اور بے یقینی کی کیفیت ہے اس کا مقابلہ صرف امید اور یقین کی طاقت سے کیا جا سکتا ہے۔ امید کا دامن ہرگز ہرگز ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ اپنے رب سے بہتری کی امید رکھیں۔ حالات جو بھی ہوں، شکر گزار رہیں۔ زندگی بہت طاقتور ہے ۔حالات کیسے بھی ہوں زندگی کبھی رکتی نہیں چلتی رہتی ہے۔ آگے بڑھتی رہتی ہے کیونکہ زندگی نے امید کا دامن تھاما ہوا ہے۔ یہ زندگی امید کی ہم زاد ہے۔ہم نے گزشتہ برس سے ہی تو سیکھا کہ موت‘ خوف اور بیماری کے سائے کتنے گہرے کیوں نہ ہوں امید باقی رہتی ہے کیونکہ کوئی بھی امید کو قرنطینہ نہیں کر سکتا اور خوابوں کو لا ک ڈائون نہیں کر سکتا!

تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close