بلاگ

معیار جیتتا ہے تعداد کی کثرت نہیں/ پیر فیضان علی چشتی

ماضی کے اوراق پر نظر دوڑائیں تو یہ بات یقینی ہو گی کہ دنیا میں ہمیشہ معیار جیتا ہے تعداد کی کثرت نہیں چائے وہ بدر و حنین ہو یا معرکہ کرب و بلا ہو آج بھی مسلمان دنیا میں تقریباً دو ارب ہیں مگر یہودی تقریباً ڈیڑھ کروڑ مگر وہ دنیا میں سب سے آگے ہیں چائے وہ معیشت ہو تجارت ہو سیاست ہو دنیاوی تعلیم ہو کیونکہ انکے پاس معیار ہیں مسلمان کے پاس نہیں اس پر آپ غور و فکر کریں تو ایک بات نظر آئے گی کہ مسلمان محنت نہیں کرتا حالانکہ اسلام نے اس کا حکم دیا اور انبیاء و اولیاء کرام نے عملی نمونہ ہمارے سامنے رکھا۔

مسلمان صرف کہتا ہے کام چلتا ہے بس چلاؤ اور یہودی کہتا ہے کام نا چلاؤ معیار بنا کر دنیا کے سامنے ٹاپ نمبر پر لاؤ یہ ہی وجہ ہے سائنس تجارت معیشت میں وہ آگے نکل گئے اور ہم پیچھے رہ گئے اس لیے ہماری قوم کو بس کام چلاؤ سے نکل کر آگے سوچنا ہو گا اور ابھر کر دنیا کے نقشے پر آنا ہو گا جس طرح ہمارے اسلاف تاریخ کے صفحات پر اپنے کارناموں کی روشنیاں بکھیرتے ہمارے ماضی کا حصہ ہیں۔

افسوس ہوتا ہے کہ ہماری پروڈکٹس ہمارے مسلمان استعمال نہیں کرتےاول تو اس چیز کا ویسے ہی مسلمانوں میں فقدان ہے اور اگر بنا بھی لیں تو پوچھنے پر ہماری مسلم قوم کہ رہی ہوتی ہماری بنائی ہوئی چیزیں ناقص ہوتی دھوکہ دہی ہوتی اس میں جبکہ غیروں کی بنائی پروڈکٹس اس کے برعکس ہوتی اے مسلم تاجروں! اے مسلم حکمرانوں! اے مسلم وزیروں مشیروں! اے مسلم نوجوانوں! کیا یہ تھی ہمارے اسلام کی تعلیمات جس پر ہم چل رہے! افسوس صد افسوس

اور دوسری سب سے اہم بات کے مسلمانوں کے کسی بھی طبقے میں اتحاد کی فضا قائم نہیں ہے صرف دینی ہی نہیں دنیاوی شعبہ جات کو دیکھ لیں مختلف سیاسی پارٹیوں کی تفرقہ بازی ،معیشت میں مسلمان تاجروں کی عالمی سطح پر باہمی رابطے کا فقدان، مسلم ممالک اور انکے سربراہان کا عالمی سطح پر اتحاد کا فقدان، مسلمانوں کی حالت سمجھنے کے لیے مثال سمجھیں۔

کہ شکاری نے جال لگایا پرندے آگئے وہ جال پکڑنے لگا اسے دیکھ کر پرندوں نے زور لگایا جال آڑا لے گئے مگر شکاری پیچھے نا بھاگا واپس آ گیا دوسرے دن پھر لگایا پرندے آئے شکاری جال پکڑنے آیا پرندوں نے ڈر کی وجہ سے زور لگایا جال لے کر اڑ گئے شکاری پیچھے بھاگ پڑا کچھ فاصلے پر جال نیچھے گرا شکاری نے پکڑھ لیا ایک آدمی دیکھ رہا تھا اس نے پوچھا کل جال کے پیچھے کیوں نہیں بھاگے اس نے کہا کل جو پرندے آئے تھے وہ ایک ہی قسم کے اور ہم خیال تھے انہوں نے رکنا نہیں تھا اڑتے ہی چلے جانا تھا مگر آج جو آئے وہ علیحدہ علیحدہ قسم کے تھے کوئی کوا کوئی چڑیا کوئی کبوتر مجھے پتا تھا یہ گر پڑھیں گے کیونکہ کچھ فاصلے پر کوے نے کہنا سارا زور میرا لگ رہا تم کیا کر رہے اب خود ہی جال اڑاو میں تو زور نہیں لگاتا چڑیا نے کہنا میرا تو پھر حق ہی نہیں بنتا زور لگانے کا میں تو چھوٹی سی ہوں چلو خود ہی زور لگاؤ اس اختلاف کے پیش نظر کچھ فاصلے پر گر جانا تھا میں پیچھے بھاگ پڑا اور یہ میرے ہاتھ آگئے۔

آج مسلمانوں کی حالت بھی اس کوے چڑیا جیسی ہے کسی کا منہ اس طرف ہے تو کسی کا اس طرف ہماری صفوں میں اتحاد باقی نہیں رہا یہودیوں کے بڑے بڑے بزنس میں دنیا کے جس کونے میں بھی تھے مگر انکا باہمی رابطہ رہا اور انہوں نے سپورٹ کی آپس میں اور پوری دنیا کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔

دنیا کے امیر ترین 12 لوگوں میں چھ یہودی ہیں یہودی یوٹیوب آرون کہتا ہے یہودیوں کی کامیابی کی ایک وجہ آپس میں بھائی چارہ ہے ہمیں دو ہزار سال پہلے اپنی زمینوں سے نکال دیا گیا اور ہم اس وقت سے بکھرے پڑے ہیں لیکن ہم نے اپنا بھائی چارہ قائم رکھا یہ سب یہودی بھائی چارے کی وجہ سے ممکن ہوا کہ یہودی برادری ایک بہترین کاروباری نیٹ ورک بنانے میں کامیاب ہوگئے گئے جو یہودی روس میں تھا ان کا رابطہ فرانس کے یہودیوں کے ساتھ تھا اسی طرح ساری دنیا کے یہودیوں کے رابطے ایک دوسرے کے ساتھ تھے جس کی بدولت کامیاب ملٹی نیشنل کارپوریٹ ادارے قائم کرنا ممکن ہوئے۔
شاید یہودیوں نے پہلے ہی عالمی امن بھائی چارہ قائم کر لیا جس کی وجہ سے وہ تمام قوموں سے پہلے عالمگیر نظام بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
انکے ہاں قانون ہے کہ ایک یہودی دوسرے یہودی کا ذمہ دار ہوتا ہے ارون کہتا ہے کہ یہودی مذہب میں کسی یہودی کو قرض دیا جائے تو اس سے سود لینا جائز نہیں جب کاروباری معاہدوں کی بات آئے ہے تو یہ لازم ہوتا ہے اگر دوسری طرف بھی یہودی ہو تو قیمتیں برابر ہونا چاہیے۔ وہ کہتا ہے بہت سے لوگوں کو یقینا محسوس ہوگا کہ یہ قانون نسل پرستی پر مبنی ہے مگر سود ہمارے نزدیک غلط نہیں ہے لیکن جب بھائیوں میں کاروبار ہو تو معیار الگ ہوتا ہے۔
اگر غور کریں تو سمجھ آتا ہے کہ مضبوط رابطوں کی وجہ سے بغیر نظر آئے یہودیوں نے پوری دنیا کے معاشی نظام کو کنٹرول کر لیا۔
افسوس تو اس قوم پر ہے اسلام نے جن کو بھائی بنا دیا وہ اپنوں کو چھوڑ کر غیروں کو اپنا رہبر و رہنما بناتے ان کے ساتھ کاروبار کرتے اور ان کی نقالی کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ دو ارب مسلمانوں کا ڈیڑھ کروڑ یہودیوں سے پیچھے رہ جانا محنت نہ کرنے اور اپنی قوم کا شیرازہ منتشر ہونے کی وجہ سے ہے ۔

تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close
Close